فرموداتِ مصلح موعود — Page 356
۳۵۶ داڑھی سے ایک شعار ہے۔اب ایک غیر جو دیکھے گا کہ ایک شخص مسلمان کہلاتا ہے اور پھر داڑھی منڈوا تا ہے تو وہ یہی کہے گا کہ یہ کہلاتا تو مسلمان ہے لیکن اسلامی شعار کی اس کے دل میں کچھ حرمت اور وقعت نہیں۔اس لئے وہ داڑھی منڈوا کر اسلام کی ہتک کرتا ہے۔جب داڑھی کا کوئی بوجھ نہیں۔نہ یہ کہ اس کی وجہ سے سخت گرمی محسوس ہوتی ہے اور ادھر داڑھی رکھنا اسلام کے شعار میں سے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا مطالبہ کیا ہے اور یہ حکم ہے بھی ایسا جس کی تعمیل کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔سر کے اگلے حصہ پر رکھے ہوئے بال تو ٹوپی یا پگڑی کے نیچے انسان چھپا بھی سکتا ہے لیکن ٹھوڑی تو چھپائی نہیں جاسکتی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اور اسلامی شعار کی حرمت کے لئے اگر داڑھی رکھ لی جائے تو کون سی بڑی بات ہے۔الفضل ۲۳ / جون ۱۹۲۵ء - جلد ۱۲ نمبر ۱۴۱ صفحه ۶ - الازهار لذوات الخمار صفحہ ۱۷۸) داڑھی کے متعلق اسلامی حکم سوال :۔داڑھی کے متعلق اسلام کا کیا حکم دیتا ہے؟ جواب : حضور نے فرمایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ داڑھی رکھو پس ہمیں بھی اسی بات پر زور دینا چاہئے کہ داڑھی ہو اور ایسی ہو کہ دیکھنے والے کہیں کہ یہ داڑھی ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ وہ کتنی ہو اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں۔بعض لوگ تزئین کراتے ہیں بعض نہیں کراتے۔مگر صحیح طریق یہی ہے کہ داڑھی کی تزئین کی جائے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ثابت ہے کہ آپ تزئین کیا کرتے تھے۔اگر ایک شخص کی داڑھی ایسی ہے جو زیادہ لمبی ہونے کی صورت میں بدزیب معلوم ہوتی ہے مثلاً صرف ٹھوڑی پر ہی بال ہیں تو ایسی صورت میں تر شوا کر چھوٹی کی جاسکتی ہے لیکن بعض لوگ جو زیرو مشین استعمال کرتے ہیں ان کی داڑھی واقعی میں داڑھی کہلانے کی مستحق نہیں۔البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے داڑھی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ایسے لوگ مخنث قسم کے ہوتے ہیں۔یعنی داڑھی رکھنے