فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 321

معاملات چاہتا ہوں تو یہ جائز ہو گا اس میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹوں کو محروم کرنا چاہتا ہے۔(الفضل ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحه ۳) اپنی زندگی میں دی ہوئی چیز هبه هے، وصیت میں نہیں آتی سوال :۔نواب محمد عبدالرحمن صاحب مرحوم کی امانت کے سامان اور کیش جس کے بارہ میں انہوں نے اپنی وفات سے قبل اڑھائی سال یہ تحریر دی تھی کہ ”میرا جو سامان یعنی چار عدد بکس بڑے چھوٹے صدر انجمن احمد یہ ربوہ میں امانت رکھوائے ہوئے ہیں اور تمام رقوم جو امانت رکھی ہوئی ہے۔اس تمام سامان اور روپیہ کی مالک میری بیگم محمودہ بیگم ہیں۔اس پر میرے کسی رشتہ دار کا حق نہیں۔میری زندگی اور وفات کے بعد اس کی مالک میری بیگم ہیں۔“ جواب:۔ارشاد انور :۔ٹھیک ہے جب وصیت موجود ہے تو ان کے قول کے مطابق ان کی بیوہ مالک ہیں۔یہ مال ان کی بیوی کا ہی ہے۔زیادہ سے زیادہ مفتی سے فتویٰ لے لو۔جو چیز انسان کسی کو زندگی میں دے جائے یا کسی کی قرار دے جائے وہ میرے نزدیک وصیت کے نیچے نہیں آتی۔“ (رجسٹر دار الافتاء - فتوى 101/21۔2۔51) هبه اور وصیت میں فرق صدقہ وخیرات جو ایک بہت بڑی نیکی ہے اس میں بھی اسلام نے میانہ روی سے کام لینے کی