فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 291

۲۹۱ حدود اسلامی سزاؤں کا اصول اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سزا کے متعلق فرماتا ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا (الشورى : ۴۱) کہ اصول سزا کا یہ ہے کہ جیسا جرم ہو اس کے مطابق سزا ہو۔دوسرے قرآن اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد اس کی ظاہری شکل نہیں ہوتی۔یہ نہیں کہ کوئی عورت گزر رہی ہو اور کوئی بد معاش اسے چھیڑے یا اس کا برقع اتار لے تو سزا دیتے وقت اس کی بیوی یا بہن کو بلایا جائے اور اس کا برقع اتارا جائے بلکہ برابری سے مراد باطنی برابری ہے گو بعض جگہ ظاہری شکل بھی لی جاتی ہے۔خصوصاً جسمانی حملہ کی صورت میں لیکن عام طور پر باطنی شکل لی جاتی ہے جیسے زنا ہے اس کی سزا شریعت نے بعض حالتوں میں کوڑے اور بعض حالتوں میں سنگساری رکھی ہے گوسنگساری کی سزا میں اختلاف ہے مگر میں اس وقت مسئلہ بیان نہیں کر رہا بلکہ ایک مثال دے رہا ہوں۔اب زنا کا کوڑوں یا سنگساری سے کیا تعلق ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد ظاہری شکل کی برابری نہیں۔مگر جسمانی ایڈا کے متعلق عام طور سزا میں ظاہری شکل قائم رکھی جاتی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے۔الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ اگر زید بکر کو یا بکر زید کو جسمانی طور پر کوئی ایذا دیتا ہے اور زید بڑا آدمی ہے تو یہ نہیں ہوگا کہ اگر بکر نے زید کو ایک لٹھ ماری ہے تو زید کے بڑے ہونے کی وجہ سے بکر کو پانچ سولھ ماری جائیں۔اس نے اگر ایک سوئی ماری ہے تو اسے بھی ایک ہی سوئی ماری جائے گی۔اس خیال سے دو نہیں ماری جائیں گی کہ زید بڑا اور بکر چھوٹا ہے۔تیسرے شریعت اسلامی نے ایذا اور اس کے نتیجہ کو الگ الگ جرم قرار دیا ہے۔اس بارہ میں شریعت اسلامی انگریزی قانون سے مختلف ہے۔انگریزی قانون کے ما تحت اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو اسے قتل کی ہی سزا دی جائے گی۔وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کس طرح قتل کیا گیا۔فرض کرو ایک شخص گولی مار کر دوسرے کو مارد بتا یا تلوار چلا کر اس کی گردن اڑا