فرموداتِ مصلح موعود — Page 281
۲۸۱ حدود لیکن بعض لوگ اس آیت کے متعلق یہ بیان کرتے ہی کہ یہ سزا بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی شکل میں بدل دی تھی۔یعنی آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ بجائے اس کے کوڑے مارے جائیں رحم کرنا چاہئے۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو نہ صرف محولہ بالا آیت نور ہی منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ سورہ نساء کی آیت بھی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ لونڈی کی سزا آدھی ہے اور رحم آدھا قیاس میں بھی نہیں آسکتا۔پس اس آیت کی صریح اور واضح مفہوم کے ہوتے ہوئے اور سورہ نساء کی آیت کی تصدیق کی موجودگی میں یہ بات بغیر کسی شک وشبہ کے کہی جاسکتی ہے کہ قرآن کریم میں زنا کی سزا آزاد عورت اور مرد کے لئے سو کوڑے ہیں اور لونڈی یا قیدی کے لئے پچاس کوڑے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ رجم کا دستور مسلمانوں میں کس طرح پڑا؟ سواس بارہ میں یہ یادرکھنا چاہئے کہ احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدکار عورت اور مرد کے متعلق رجم کا حکم دیا۔پس اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں میں کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی صورت میں رجم کا حکم یقینا تھا۔سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا رجم نے کوڑے مارنے کے حکم کو منسوخ کیا یا کوڑے مارنے کے حکم نے رجم کے حکم کو منسوخ کیا۔یا یہ دونوں حکم ایک وقت میں موجود تھے۔اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس حکم کے متعلق ناسخ اور منسوخ کا قاعدہ استعمال ہوا ہے تو ہمارے اپنے عقیدہ کے رو سے تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی منسوخ حکم قرآن کریم میں موجود نہیں۔قرآن کریم میں جتنے احکام موجود ہیں وہ سب غیر منسوخ ہیں۔اس عقیدہ کے رو سے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر رجم کا کوئی حکم تھا تو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت نے اسے منسوخ کر دیا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی اور حکم بعد میں نازل ہوا اور اس نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور اگر کوئی حدیث اس کے خلاف ہے تو وہ مردود ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کو ر ڈ کرتی ہے۔نیز اگر یہ آیت منسوخ ہو گئی ہوتی تو پھر یہ قرآن سے نکال دی جاتی۔یہ جو بعض فقہاء نے مسئلہ بنایا ہوا ہے کہ بعض آیتیں ایسی ہیں کہ تلاوتاً