فرموداتِ مصلح موعود — Page 240
۲۴۰ طلاق جائے گی اور اس کے بعد عدت میں اسے رجوع کا اختیار حاصل ہوگا۔اگر مرد اس عرصہ میں رجوع نہیں کرتا اور عدت گزر جاتی ہے تو عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی اور دوبارہ تعلق صرف نکاح سے ہی قائم ہو سکے گا۔لیکن اگر نکاح کے بعد مرد پھر کسی وقت عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع نہیں کرتا تو یہ دوسری طلاق ہوگی۔اس کے بعد بھی نکاح کے ذریعہ مرد و عورت میں تعلق قائم ہوسکتا ہے لیکن ان دو نکاحوں کے بعد اگر پھر وہ کسی وقت غصہ میں طلاق دے دیتا ہے اور عدت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو اس کے بعد اسے اپنی بیوی سے نکاح کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ اور نکاح مکمل نہ کرے اور درحقیقت اس قسم کی طلاقوں کے بعد کوئی پاگل ہی ہوگا جو تیسری طلاق دے اور اگر وہ دیتا ہے اور پھر عرصہ عدت میں رجوع بھی نہیں کرتا تو شریعت اس عورت کے ساتھ اسے نکاح کی اجازت نہیں دیتی۔لیکن آج کل کے ملاں منہ سے تین طلاق کہہ دینے پر ہی اس عورت کو مرد پر حرام کر دیتے ہیں اور دوبارہ نکاح کو نا جائز قرار دے دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس قسم کے واقعات کثرت سے ہوئے تو آپ نے فرمایا اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت ایک سے زیادہ طلاقیں دے گا تو میں سزا کے طور پر اس کی بیوی کو اس پر نا جائز قرار دے دوں گا۔جب آپ پر یہ سوال ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا حکم نہیں دیا۔پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشاء تھا کہ اس قسم کی طلاقیں رک جائیں۔چونکہ تم اس قسم کی طلاق دینے سے رکتے نہیں اس لئے میں بطور سزا اس قسم کی طلاق کو جائز قرار دے دوں گا۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آپ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ماتحت تھا اور صرف سزا کے طور پر تھا۔مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔(الفضل ۵ نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۶) لوگ کرتے کیا ہیں جب غصہ آیا جھٹ کہہ دیا طلاق ، طلاق ، طلاق ، تین طلاق ، سوطلاق ، ہزار طلاق۔تم میری ماں ہو، بہن ہو حالانکہ اس سے زیادہ بیہودہ بات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ایک وقت میں تو تین طلاقیں جائز ہی نہیں ہیں۔مگر لوگ اس طرح طلاق طلاق کہتے چلے جاتے