فرموداتِ مصلح موعود — Page 228
۲۲۸ نکاح نہیں ہے لیکن اب بھی اگر ایک مسلمان ہندولڑ کی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرلے تو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان اسے پوتا کہہ کر جان دے گا تو دوسری طرف ایک ہندواسے نواسہ کہہ کر جان دے گا اور آپس کے اختلافات بہت حد تک دور ہو جائیں گے۔لیکن یہ بات تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب اسے کثرت سے رائج کیا جائے اور پھر بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے۔مسلمانوں میں صرف اکبر نے اس پر عمل کیا لیکن جب باقی مسلمانوں نے اس پر عمل نہ کیا تو اکبر کا کام بھی بریکار ہوکر رہ گیا اور بجائے فائدہ رساں کے مضر ہو گیا۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان - صفه ۵۲۴) ايك مسلمان ہندو لڑکی سے شادی کرسکتاھے اسلام کی رو سے ایک ہندو اور ایک یہودی لڑکی کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے گو یہ رواج آج کل نہیں ہے۔اب اگر ایک مسلمان مرد ہندولڑ کی سے یا یہودی لڑکی سے شادی کرے تو اس پر دوسرے مسلمان کفر کا فتویٰ لگادیں۔مگر اسلام میں ایسے نکاح کی اجازت ہے اور اس سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو ایک ہی وجود پر ایک طرف مسلمان پوتا کہہ کر جان دیتا اور اس سے محبت کرتا ہو تو دوسری طرف ایک نواسہ کہ کر اس پر جان دیتا ہو اور اس سے محبت کرتا ہو۔اس ذریعہ کو اختیار کرنے سے مذاہب کے اختلاف دور ہو جائیں گے۔( خطبات محمود، جلد ۳ صفحه ۴۴۸) برتھ کنڑول میرے نزدیک خشية اطلاق کی وجہ سے تو برتھ کنٹرول نا جائز ہے لیکن بچہ یا عورت کی صحت کے خطرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جائز ہے۔یعنی اگر بچہ کے متعلق خطرہ ہو کہ دماغی یا جسمانی لحاظ سے ناکارہ پیدا ہوگا یا عورت کی صحت اس قدر کمزور ہو کہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی جان کا خطرہ ہوتو برتھ کنٹرول کا طریقہ اختیار