فرموداتِ مصلح موعود — Page 188
۱۸۸ نکاح لڑکی کولڑ کامنتخب کرنے کاحق دینا چاھئے نکاح کا معاملہ انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور شائد جس قدر د نیوی معاملات ہیں ان سب سے زیادہ اس کا تعلق انسان سے ہے لیکن یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ معاملات جن کا انسانی زندگی سے کم تعلق ہوتا ہے ان کو تو انسان لوگوں کے سپر د کر نے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور جس کا زیادہ تعلق ہے اسے اپنے ہاتھ میں رکھنا پسند کرتے ہیں۔ایک کپڑا چھ مہینے نہیں ، سال نہیں، دو سال ، دو سال نہیں، تین سال، تین سال نہیں چار سال، چار سال نہیں پانچ سال چلتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہے مگر ماں باپ کپڑے کے متعلق تو لڑکے لڑکی کو اجازت دے دیں گے بلکہ پسند کریں گے کہ لڑکا لڑکی کپڑا خود پسند کر لے۔حالانکہ اس کے انتخاب پر ان کی زندگی کا مدار نہیں ہوتا۔مگر وہ بات جس میں ان کی پسندیدگی اور رضامندی کے بغیر غرض پوری نہیں ہوسکتی اس میں اجازت نہیں دیتے اور وہ بیاہ شادی کا معاملہ ہے۔شادی ساری عمر کا تعلق ہوتا ہے اگر لڑکے لڑکی کا مزاج نہ ملے ایک دوسرے کو پسند نہ کرے ان کے تعلقات عمدہ نہ ہوں تو ان کی ساری عمر تباہ ہو جاتی ہے۔خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۲۵۲،۲۵۱) لڑکی کونکاح سے پہلے دیکھنا پھر اسلام نے اس کے متعلق بھی کئی اصول مقرر کئے ہیں مثلاً عورت کا مہر مقرر کرنا اور پھر عورت کو شادی سے پہلے دیکھنا تا کہ بعد میں جو فتنے پیدا ہو سکتے ہیں وہ نہ ہوں۔شادی کے موقع پر جب سب باتیں رشتہ داروں میں طے ہو جا ئیں تو لڑکی کو دیکھ لینا بہت سے فتنوں کا سدباب کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نو جوان نے کسی لڑکی سے شادی کرنی چاہی۔لڑکی والوں کے سب حالات اسے پسند تھے۔اس نے لڑکی کے باپ سے کہا کہ