فرموداتِ مصلح موعود — Page 163
۱۶۳ روزه مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے ہمیں بھی روزہ رکھنے کا شوق ہوتا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں روزہ نہیں رکھنے دیتے تھے۔اور بجائے اس کے کہ ہمیں روزہ رکھنے کے متعلق کسی قسم کی تحریک کرنا پسند کریں ہمیشہ ہم پر روزہ کا رعب ڈالتے تھے۔تو بچوں کی صحت کو قائم رکھنے اور ان کی قوت بڑھانے کے لئے روزہ رکھنے سے انہیں روکنا چاہئے۔اس کے بعد جب ان پر وہ زمانہ آجائے جب وہ اپنی قوت کو پہنچ جائیں جو پندرہ سال کی عمر کا زمانہ ہے تو پھر ان سے روزے رکھوائے جائیں اور وہ بھی آہستگی کے ساتھ۔پہلے سال جتنے رکھیں دوسرے سال اس سے کچھ زیادہ اور تیسرے سال اس سے زیادہ رکھوائے جائیں۔اس طرح بتدریج اس وقت ان کو روزہ کا عادی بنایا جائے۔روزہ نہ رکھنے والے:۔اس کے مقابل میں میرے نزدیک ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ کو بالکل معمولی حکم تصور کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی وجہ کی بناء پر روزہ ترک کر دیتے ہیں بلکہ اس خیال سے بھی کہ ہم بیمار ہو جائیں گے روزہ چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ کوئی عذر نہیں کہ آدمی خیال کرے میں بیمار ہو جاؤں گا۔میں نے تو آج تک کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو یہ کہہ سکے کہ میں بیمار نہیں ہوں گا۔پس بیماری کا خیال روزے ترک کرنے کی جائز وجہ نہیں ہو سکتا۔پھر بعض اس عذر پر روزہ نہیں رکھتے کہ انہیں بہت بھوک لگتی ہے حالانکہ کون نہیں جانتا کہ روزہ رکھنے سے بھوک لگتی ہے جو روزہ رکھے گا اس کو ضرور بھوک لگے گی۔روزہ تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ بھوک لگے اور انسان اس بھوک کو برداشت کرے۔جب روزہ کی یہ غرض ہے تو پھر بھوک کا سوال کیسا۔پھر کئی ہیں جو ضعف ہو جانے کے خیال سے روزہ نہیں رکھتے۔حالانکہ کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جس کو روزہ رکھنے سے ضعف نہ ہوتا ہو۔جب وہ کھانا پینا چھوڑ دے گا تو ضرور ضعف بھی ہوگا اور ایسا آدمی کوئی نہیں ملے گا جو روزہ رکھے اور ضعف نہ ہو۔(الفضل ۱۱ر اپریل ۱۹۲۵ء۔نمبر ۱۱۳) سوال:۔پوچھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ بیمار رہتے تھے کیا روزہ رکھتے تھے؟