فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 144

۱۴۴ زكوة معاملہ جائز ہو جاتا ہے جو کفار سے کیا جاتا ہے چنانچہ حضرت عمرؓ نے جب حضرت ابو بکر کو زکوۃ نہ دینے والوں کے متعلق کہا کہ یہ مسلمان ہیں ان سے کافروں والا معاملہ نہ کیا جائے تو حضرت ابو بکر نے کہا نہیں ان سے کا فر والا ہی معاملہ کیا جائے گا چنانچہ ان کو پکڑ کر غلام بنایا گیا۔زکوۃ جس رنگ میں رکھی گئی ہے اس میں تو یہ حکمت ہے کہ اگر یونہی صدقہ کا حکم دیا جا تا رقم اور وقت مقرر نہ ہوتا تو بہت لوگ نہ دیتے اس لیے تھوڑے سے تھوڑا چندہ شریعت نے خود مقرر کر دیا کہ اس قدرا اپنے مال میں سے ضرور دیا جائے۔اس سے زائد جود ے وہ انعام کا مستحق سمجھا جائے۔اور جو اس حد تک بھی نہ دے وہ مجرم ہوگا پس اس حد کو پورا کرو۔دوسرا اس کے مقرر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ بعض لوگوں کو جو ضروریات آپڑتی ہیں ان کو فرداً فرداً پورا نہیں کیا جاسکتا مثلاً ایک شخص غریب ہے اس کو لاکھ روپیہ کی ضرورت آپڑتی ہے کوئی کہے کہ غریب اور پھر لاکھ روپیہ کی ضرورت کا مطلب؟ مگر ہوتی ہے۔مثلاً ایک تاجر ہے اس کو کاروبار میں گھانا پڑ گیا ہے اس کے چلانے کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے ایسے لوگوں کی بھی زکوۃ سے مدد کی جاسکتی ہے تو زکوۃ غرباء کو بھی دیا جاتا ہے تا کہ اپنی ضروریات پوری کریں مگر ان کو بھی دیا جاتا ہے جنہیں کاروبار چلانے کے لیے ضرورت ہو اور پیشہ ور ہوں۔پس زکوۃ کے فنڈ سے ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔افراد کے چندہ سے ان کا کام نہیں چل سکتا۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے کا احسان اٹھانا پسند نہیں کر سکتے وہ بھوکے مر جائیں گے مگر یہ گوارا نہیں کریں گے کہ زید کے سامنے جائیں اور اپنی ضروریات کے لئے اس سے کچھ حاصل کریں۔چونکہ ایسی طبیعت کئی لوگوں کی خدا نے بنائی ہوئی ہے اور ان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لیے شریعت نے یہ رکھا ہے کہ حکومت امراء سے لے اور ایسے لوگوں کو دے تا کہ وہ طبائع جو کسی کا احسان نہیں اُٹھانا چاہتیں وہ اس طرح مدد پائیں۔اصلاح نفس۔انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۲ ۴۵ تا ۴ ۴۵)