فرموداتِ مصلح موعود — Page 143
۱۴۳ زكوة وَأمُرَاَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا لَا نَسْتَلُكَ رِزْقاً یہ قانون قدرت ہے کہ بچے ماں باپ کے پیچھے چلتے ہیں۔اس لیے عیسائیوں کی ترقی کے زمانہ میں ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو نماز کی تاکید کرتا رہے اور خود بھی نمازوں کا پابندر ہے تا کہ اس کی اولا دبھی اسی رنگ میں رنگین ہو کیونکہ جو شخص عبادت پر قائم رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور حلال رزق دیتا ہے اور اس سے رزق مانگتا نہیں۔بظاہر یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے کیونکہ تمام انبیاء دین کی خدمت کے لیے چندے مانگتے چلے آئے اور اسلام نے بھی زکوۃ اور صدقات پر خصوصیت سے زور دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جولوگ زکوۃ یا صدقہ میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ بڑھتا ہے اور اس کا فائدہ خود لوگوں کو ہی پہنچتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَا أَتَيْتُمُ مِنْ زَكَوةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ (روم:۴) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں وہی اپنے مالوں کو بڑھانے والے ہوتے ہیں پس چندے لینا یا صدقہ و زکوۃ وغیرہ اس آیت کے خلاف نہیں۔(تفسیر کبیر۔جلد پنجم سورة طه - صفحه ۴۸۳،۴۸۲) زکوۃ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ انہیں دیتا ہے وہ آگے لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں پس نبیوں کا زکوۃ دینا درحقیقت ان کا اپنے مریدوں کو اس کی تلقین کرنا ہوتا ہے۔(تفسیر کبیر۔جلد پنجم سورۃ مریم صفحہ ۲۲۳) زکوۃ تو ایسی ضروری چیز ہے کہ جو نہیں دیتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔مگر بہت لوگ ہیں جوز کو نہیں دیتے۔جب انہیں کہا جائے تو کہتے ہیں اچھا یہ بھی فرض ہے۔پھر ایک سال یونہی گزار دیتے ہیں گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں دوسرے سال پھر سنتے ہیں مگر ایسا ہی سنتے ہیں گویا نہیں سنا۔مگر اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے بچ نہیں سکتے۔جو شخص زکوۃ کو چھوڑتا ہے اس سے وہی