فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 115

۱۱۵ سوال :۔کیا دوسروں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہے؟ جواب :۔کئی لوگ غریب ہوتے ہیں اس لئے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کوئی شخص قربانی سے محروم نہ رہ جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ غرباء امت کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتے تھے۔اس طریق کے مطابق میرا قاعدہ یہ ہے کہ اپنی جماعت کے غرباء کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتا ہوں۔(الفضل ۱۷ اگست ۱۹۲۲ء) عقیقه عقیقہ کے واسطے تاریخ ساتویں مقرر ہے۔تاخیر کرنی ٹھیک نہیں۔ہاں اگر کوئی عذرِ ضروری ہو تو جائز ہے۔گوشت کے متعلق آدمی کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہے عمل میں لاوے۔اصل غرض خون بہانا ہے۔سوال :۔عقیقہ کے بکرے کی عمر کتنی ہو؟ جواب :۔جو قربانی کے جانور کے لئے ہیں ( یعنی میسہ دوندا ) یہ بھی یادر ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔( الفضل ۱۸ / مارچ ۱۹۱۶ء) سوال :۔کیا عقیقہ میں گائے جائز ہے؟ الفضل یکم اپریل ۱۹۱۵ء۔جلد نمبر۲۔نمبر ۱۱۹) جواب: فرمایا۔اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔کیا بکر امل نہیں سکتا۔کئی چیز میں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں رواج اور سنت کا رنگ رکھتی ہیں مثلاً عقیقہ ہی ہے اس میں لڑکے کے لئے دو بکرے اور لڑکی کے لئے ایک قربانی رکھی گئی ہے اس میں اس لحاظ سے کہ بکرے ذبح کئے جائیں کوئی خاص حکمت تو نظر نہیں آتی کیونکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اس مال سے غرباء کو کپڑے لے دے یا نقد روپیہ ہی