فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 89

۸۹ اسلامی عبادات اور مسجد میں سہوادانہیں کرنا چاہئے لیکن اگر اسے اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جبکہ اس نے تشہد پڑھنا شروع کر دیا تو پھر اسے کھڑا نہیں ہونا چاہئے بلکہ بیٹھے رہنا چاہئے۔اس صورت میں نماز کے بعد سجدہ سہوا دا کرنا ضروری ہوگا۔پس سجدہ سہو اسی صورت میں ہے جبکہ کوئی غلطی ہو جائے اور پھر وہ غلطی استحکام پکڑ جائے۔اگر استحکام نہیں پکڑتی اور اس غلطی کا احساس ہوجاتا ہے تو اس صورت میں اسے درست کر لینا چاہئے اور سجدہ سہوادانہیں کرنا چاہئے۔قبولیت دعا کے سات اصول ( الفضل ۱۴ / اکتوبر ۱۹۴۶ء) 1۔جس مقصد کے لئے دعا کی جائے وہ نیک ہو۔ایسے نہیں کہ چور چوری کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو وہ بھی قبول کر لی جائے گی۔خدا کا نام لے کر اور اس کی استعانت طلب کر کے جو دعا کی جائے گی لازماً ایسے ہی کام کے متعلق ہوگی جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات بندہ کے ساتھ شریک ہوسکتی ہو۔میں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے وہ لوگوں کی تباہی اور بربادی کی دعائیں کرتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔بعض لوگوں نے جھوٹا جامہ زہد وانتقاء کا پہن رکھا ہے اور ناجائز امور کے لئے تعویذ دیتے اور دعائیں کرتے ہیں حالانکہ یہ سب دعا ئیں اور تعویذ عاملوں کے منہ پر مارے جاتے ہیں۔2۔دوسرا اصل الـحـمـد لله رب العالمین میں بتایا ہے یعنی دعا ایسی ہو کہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے دوسرے بندوں کا بلکہ سب دنیا کا فائدہ ہو یا کم از کم ان کا نقصان نہ ہو اور اس کے قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی حمد ثابت ہوتی ہے اور اس پر کسی قسم کا الزام نہ آتا ہو۔3۔تیسرے یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو جنبش دی گئی ہوا اور اس دعا کے قبول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت ظاہر ہوتی ہو۔4۔چوتھے یہ کہ اس دعا کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت رحمیت سے بھی ہو یعنی وہ نیکی کی ایک ایسی بنیاد