فرموداتِ مصلح موعود — Page 88
۸۸ اسلامی عبادات اور مسجد میں دریافت نہ ہوئے تھے اس لئے براہ راست ان کا ذکر نہ کیا گیا ورنہ ان کی دریافت تک صد ہا سال لوگ اس ذکر کی وجہ سے اسلام پر حملے کرتے رہتے۔مگر دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فاقدروا لہ سے پیش آنے والی ضرورت کا جواب بھی دیا گیا۔اصل بات تو یہ ہے کہ قطبین کے لوگوں کے بارے میں دوسرے تمام مذاہب پر حملہ کیا جاتا اور ان کے عجز کو ظاہر کیا جاتا۔مگر مسلمانوں کی ناواقفیت ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام پر خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہیں۔الفضل ۱۹ را پریل ۱۹۴۶ء- جلد نمبر ۳۴ نمبر ۹۳) سوال :۔سول ملٹری گزٹ ۶ ستمبر ۱۹۴۶ء کے پرچے میں صفحہ ۲ پر فن لینڈ کے مسلمانوں کا یہ سوال جو جامعہ ازہر کے مفتی سے پوچھا گیا ہے شائع ہوا ہے جو یہ ہے کہ اس دفعہ رمضان المبارک گرمیوں میں آیا ہے اور یہاں پر ۲۲ گھنٹے کا دن ہے اور صرف دو گھنٹے کی رات ہے اس لئے روزہ کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب :۔حضور نے تحریر فرمایا:۔یہ تو کوئی سوال نہیں آٹھ پہر کا روزہ رکھنا عام طور پر مسلمانوں میں رائج ہے۔دوسرے یہ کہ اگر گرمیوں میں ان لوگوں کو بائیس گھنٹوں کا روزہ رکھنا ہوگا تو کیا سردیوں میں پانچ گھنٹوں کا روزہ نہ ہوگا۔الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۴۶ء- جلد نمبر ۳۴ نمبر (۲۱۴) سجده سهو سوال :۔کیا نماز میں ہر غلطی پر سجدہ سہو ادا کرنا ضروری ہے؟ جواب: سجدہ سہو اس غلطی کی بناء پر ہوتا ہے جو قائم ہو جائے مثلاً اگر ایک شخص نے پہلی رکعت کے سجدوں کے بعد دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونا تھا لیکن غلطی سے وہ بیٹھ گیا۔اس صورت میں اگر تشہد شروع کرنے سے پہلے اسے اپنی غلطی کا علم ہو گیا اور وہ اُٹھ کھڑا ہوا تو نماز کے بعد اسے سجدہ