فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 78

LA اسلامی عبادات اور مسجد میں کے نزدیک وہی دعائیں مسلمہ ہیں جو قرآن کریم ، احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی دعائیں ہیں۔( الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۶۱ء) سوال : کیا امام اونچی آواز سے اردو میں دعا کر سکتا ہے؟۔جواب :۔فرمایا۔اس طریق کو میری طبیعت نہیں مانتی۔اس موقع پر مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ ہے کہ اس طرح دعا کرنا جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ حسب ذیل ہے:۔سوال:۔امام اگر اپنی زبان میں بآواز بلند دعا مانگتا جائے اور پیچھے آمین کرتے جاویں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو؟ جواب :۔فرمایا۔دعا کو بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو فرمایا تَضَرُّعًا وَّ خُفية اور دون الجهر من القول سوال :۔قنوت تو پڑھ لیا کرتے ہیں؟ جواب :۔فرمایا۔ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آچکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جاویں۔باقی دعائیں جو اپنے ذوق کے مطابق ہیں۔دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔( بدر نمبر ۳۱۔جلد ۶ - صفحه ۱۲ - ۱۹۰۷ء) (الفضل۔ار جولائی ۱۹۳۴ء) سوال:۔کیا مسنون دعاؤں کے ساتھ غیر مسنونہ دعا ئیں اونچی آواز سے پڑھی جاسکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ البدر یکم اگست 19ء میں ہے کہ ادعیہ ماثورہ بے شک اونچی آواز سے پڑھ لی جاویں۔باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہوں وہ دل میں ہی پڑھنی چاہئیں۔جواب :۔حضور نے فرمایا:۔اس زمانہ میں ناسخ و منسوخ کا سوال نہیں۔وہ فتویٰ کب شائع ہوا ہے اور کس نے کیا ہے۔یہ درست ہے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دوسری دعائیں