فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 72

۷۲ اسلامی عبادات اور مسجد میں جواب :۔اس کا ظاہری جواب تو یہ ہے کہ دن کے وقت شور ہوتا ہے اور طبیعتوں میں سکون نہیں ہوتا۔اس لئے خدا کے کلام سنانے سے جو غرض ہوتی ہے کہ دلوں میں رقت پیدا ہوا اور خدا کا جلال سامنے آجائے وہ اچھی طرح پوری نہیں ہوسکتی۔اس لئے دن کی نمازوں میں قراءت بالجبر نہیں ہوتی۔رات کی نمازوں میں قراءت بالجبر کی یہی حکمت ہے کہ اس وقت خاموشی کا عالم ہوتا ہے۔طبیعتیں سکون اور اطمینان میں ہوتی ہیں۔خدا کا کلام سُن کر رقت پیدا ہوتی ہے۔خدا کا کلام تو دن کو پڑھا جائے یا رات کو ہر وقت اثر پیدا کرتا ہے۔مگر انسانوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔اس لئے ایک ہی بات ایک وقت کچھ اثر رکھتی ہے اور دوسرے وقت میں کچھ اور کسی نے سچ کہا ہے ہر سخن وقتے و ہرنکتہ مقامی دارد اس کے علاوہ اس کا روحانی جواب بھی ہے اور وہ یہ کہ جب تاریکی کا زمانہ ہو اس وقت خوب بلند آواز سے خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت ہونی چاہئے۔اور روشنی کے زمانہ میں اگر کم بھی ہو تو بھی کام چل سکتا ہے۔(الفضل ۱۹/ نومبر ۱۹۲۹ء) سوال :۔نمازوں میں سے تین بآواز بلند پڑھی جاتی ہیں۔دو کیوں خاموش پڑھی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں چار رکعت والی ہیں، دو بآواز بلند اور دو خاموش؟ جواب :۔بلند آواز سے پڑھی جانے والی رات کی نمازیں ہیں اور خاموشی سے پڑھی جانے والی دن کی ہیں۔دن کے وقت شور زیادہ ہوتا ہے۔امام اگر بلند آواز سے سُنانا چاہے تو اس پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔یہ جسمانی حکمت ہے۔روحانی حکمت یہ ہے کہ دن کے وقت نور ہوتا ہے ہر شخص دیکھ سکتا ہے رات کو تاریکی ہوتی ہے کسی کو اندھیرے میں سوجھتا ہے کسی کو نہیں۔ان نمازوں میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب سب کو ہدایت مل جائے تو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ہدایت پھیلا ؤ اور جب تاریکی پھیل جائے تو ایک دوسرے کو بلند آواز سے خبر دار کرتے رہو۔کیا آپ نے دن کے وقت اکٹھے چلنے والے اور رات کے وقت اٹھنے چلنے والے مسافروں کو نہیں دیکھا۔دن کو چلنے والے مسافر ایک دوسرے کو آواز نہیں دیتے ، رات کو چلنے والے آواز میں دیتے جاتے ہیں کوئی کہتا ہے