فرموداتِ مصلح موعود — Page 38
نماز سے متعلقہ مسائل ثابت ہوں۔ایسے نہیں جن کا اجتہاد سے تعلق ہو ، میں نے مناسب سمجھا ہے کہ پہلے ایک مسئلہ لیا جائے اور وہ مسئلہ نماز ہے۔اس کی سختی سے پابندی کرائی جائے جو پابندی نہ کر سکے ایک مدت معینہ کے بعد اس کو علیحدہ کر دیا جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہو گئی ہے جو نظر آتی ہے اور وہ نماز میں سست ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جو بالکل نماز پڑھتے ہی نہیں، بعض سست ہیں، بعض باجماعت نماز کے تارک ہیں۔اب میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سب لوگ با قاعدہ ہو جائیں اور ستی کو چھوڑ دیں اور نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جو عمیل نہ کرسکیں تین مہینہ تک ہم ان کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد دو با تیں ہوں گی۔اول یہ کہ وہ ہمیں قرآن وحدیث سے ثابت کر دیں کہ نماز با قاعدہ ادانہ کرنا ان کے لئے نہیں ہے۔اگر وہ ثابت نہ کر سکیں تو پھر ہم یہ کریں گے ہم اعلان کر دیں گے کہ فلاں فلاں لوگ چونکہ ہم پر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ نماز با جماعت ان کے لئے نہیں ، نہ وہ اس کی پابندی کرتے ہیں اس لئے یہ لوگ جماعت سے خارج ہیں۔(الفضل ۶ رفروری ۱۹۲۲ء) نمازنه پڑهنے والوں پرمالی تاوان سوال :۔نماز کی پابندی کرانے کے لئے یہ تجویز کی گئی ہے کہ جو دانستہ نماز با جماعت میں غفلت کرے ایک آنہ جرمانہ ادا کرے اور جو عورت دانستہ نماز میں غفلت کرے وہ دو پیسے اور جو نماز جمعہ میں دانستہ غفلت کرے اس سے چار آنہ جرمانہ لئے جائیں؟ جواب:۔جوش تو اچھا ہے اور قابل قدر ہے مگر جرمانہ بدعت ہے۔وہی نماز مفید ہوسکتی ہے جس کے ادا کرنے میں اگر کسی قسم کی سستی ہو جائے تو خود دل اس پر جرمانہ کرے۔نماز کی غفلت روح کی قربانی سے دور ہو سکتی ہے۔پیسوں کی قربانی سے نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تارک نماز با جماعت کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ایسے شخص کا گھر جلا دوں۔کجا