فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 27

۲۷ طہارت اگر بدن پلید هونے کی وجه سے غسل نه كرسكتا هو تو تیمم کرلے سوال :۔ایک مجذوم غیر احمدی نے دریافت کیا ہے کہ میرا بدن پلید رہتا ہے۔بار بار پاک نہیں کر سکتا نہ وضو۔تو کیا بے وضو نماز پڑھ لوں؟ جواب :۔صرف تیم کر لیں۔اگر ظاہری نجاست ہو تو بشرط امکان اس کا ازالہ کرلیں اور بس۔الفضل ۲۹ را پریل ۱۹۱۵ء صفحه ۲ جلد ۲ نمبر ۱۳۳) اگر کسی کو صاف کپڑا میسر نہ ہو تو وہ گندے کپڑوں میں ہی نماز پڑھ سکتا ہے۔خصوصاً وہم کی بناء پر نماز کا ترک تو بالکل غیر معقول ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں کئی عورتیں اس وجہ سے نماز ترک کر دیتی ہیں کہ بچوں کی وجہ سے کپڑے مشتبہ ہیں اور کئی مسافر نماز ترک کر دیتے ہیں کہ سفر میں طہارت کامل نہیں ہو سکتی۔یہ سب شیطانی وساوس ہیں لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا الہی حکم ہے جب تک شرائط کا پورا کرنا اختیار میں ہوان کے ترک میں گناہ ہے لیکن جب شرائط پوری کی ہی نہ جاسکتی ہوں تو ان کے میسر نہ آنے کی وجہ سے نماز کا ترک گناہ ہے اور ایسا شخص معذور نہیں بلکہ نماز کا تارک سمجھا جائے گا۔( تفسیر کبیر، جلد اوّل ، سوره بقره صفحه ۱۰۴) ناپاک ھونے کی صورت میں نماز فرمایا : کوئی ناپاک نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ بامر مجبوری نا پاک حالت میں بھی نماز پڑھے نماز پھر بھی جائز ہے۔خواہ آپ لید سے بھرے ہوئے ہوں تب بھی نماز پڑھیے کیونکہ آپ اپنی خوشی سے تو ایسا نہیں کرتے ہاں جتنی طہارت ممکن ہو کریں باقی مجبوری امر ہے۔نماز پڑھیں، نماز نہ چھوڑیں۔(فائل دینی مسائل A-32)