فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 18

۱۸ ایک قبر میں بعض دفعہ یکے بعد دیگرے سوسو آدمی دفن ہو جاتے ہیں۔عقائد ونظریات ( الفضل ۷ مئی ۱۹۴۴ء) تابعین اصحاب احمد حصہ سوئم صفحہ ۹۸ تا ۱۰۰) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کا مطلب سوال :۔کیا مومنوں پر قرآن کریم کے نئے نئے معارف گھلتے رہتے ہیں؟ جواب :۔اس بات پر تو خدا تعالیٰ نے خود بہت زور دیا ہے۔چنانچہ فرمایا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ - اس کے یہ معنے تو ہو نہیں سکتے کہ قرآن کریم کو ہاتھ میں صرف پاک لوگ ہی یعنی مومن ہی پکڑ سکتے ہیں اور کوئی شخص نہیں پکڑ سکتا۔کیونکہ ہندو، عیسائی سکھ وغیرہ ہر مذہب کے لوگ اس طرح قرآن کریم کو مس کر سکتے ہیں۔پھر یہ بھی نہیں کہ پہلے لوگ قرآن کریم کے جو معارف اور نکات لکھ گئے ہیں انہیں پاک لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ہندو یا عیسائی کا حافظہ ایک مسلمان کی نسبت زیادہ اچھا ہو اور وہ تفسیروں کو پڑھ کر اس سے زیادہ باتوں کو یاد کر لے اس لئے لَا يَمَسُّهِ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کا یہی مطلب ہے کہ قرآن کریم کے نئے نئے معارف اور حقائق پاک لوگوں پر گھلتے رہتے ہیں اور یہ مومنوں کی خاص علامت ہے۔الفضل ۲۳ ستمبر ۱۹۱۹ء۔جلدے نمبر ۲۴ صفیه ) سوال :۔اگر کوئی چار پائی پر بیٹھا قرآن شریف پڑھ رہا ہوتو کیا سجدہ تلاوت وہیں پر ہوسکتا ہے؟ جواب: فرمایا۔چار پائی پر سجدہ جائز ہے۔الفضل یکم اپریل ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۱۹) عیب جوئی قَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ