فرموداتِ مصلح موعود — Page 409
۴۰۹ متفرق ہے کہ اھل الکور اهل الكور“ یعنی دیہات والے قیدیوں کی مانند ہیں۔الخ۔جواب :۔فرمایا۔ہمیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریباً تمام صحابہ زمیندار تھے۔مہدی کے متعلق حدیثوں میں ہے کہ حارث حراث ہو گا۔وہ حدیث جس کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے یہی مراد ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو زراعت کے کام مشغول کر دیتا ہے اور دین کی طرف توجہ نہیں کرتا وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔زمینداروں میں یہ نقص عام پایا جاتا ہے کہ وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ بالکل نہیں کرتے۔ہمیشہ ان کی یہ شکایت رہتی ہے کہ اس وقت فلاں فصل کے کاٹنے کا وقت ہے اور اب فلاں فصل کے بونے کا وقت ہے اور اس وقت پانی دینے کا وقت ہے۔اس نقص سے اگر انسان بچا رہے تو یہ پیشہ ایک بہترین پیشہ ہے اور اب تو اس پیشہ کی یہاں تک ترقی ہوگئی ہے کہ بالکل تجارت کے ہی رنگ میں اس کو کیا جاسکتا ہے یعنی کو اپر سیٹوں سوسائٹیوں کے ذریعہ سے۔اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ فتوحات کا زمانہ تھا اس وقت میں زمینداری کے فوائد کو عام اجماعی فوائد پر فوقیت دینا موجب ذلت اور رسوائی تھا۔پس ایسے لوگوں کے حق میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنے رنگ میں بجا تھا اور یہ بات اپنے رنگ میں درست ہے کہ زراعت ایک معزز پیشہ ہے۔گوبر (پاتھی) سے کھانا پکانا (الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۲۰ء صفحه ۷ ) لوگ گوبر جیسی پلید چیز کو پاتھ کر گھروں میں جلاتے ہیں حالانکہ گو بر کا جلانا صحت کے لئے بھی مضر ہے اور اقتصادی نقصان کا بھی موجب ہے۔دوسرے ممالک کے لوگ گوبر کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور کھاد بنا کر اپنی زمینوں میں ڈالتے ہیں۔اس طرح وہ گوبر سے فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں اور گندگی سے بھی بچتے ہیں۔یہاں کی عورت جو اپنے آپ کو بڑی صاف ستھری سمجھتی ہوگی اس کو اگر گھر کی صفائی کا بہت زیادہ خیال آجائے تو۔جانوروں نے گوبر کیا ہو تو اس کی زیادہ سے زیادہ یہ