فرموداتِ مصلح موعود — Page 17
عقائد ونظریات طرح انبیاء کھانا کھاتے اور پاخانہ کرتے تھے یہ نہیں ہوتا تھا کہ پاخانہ کی بجائے مشک ان کے جسم سے نکلے۔اسی طرح انسان کے مادی جسم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو قوانین بنائے ہیں وہ ان کے جسم پر بھی عائد ہوتے ہیں۔باقی رہا بعض لوگوں کے جسموں کا محفوظ رہنا اور ہمارے مشاہدہ میں اس بات کا آنا سواس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ بعض زمینیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں جسم گلتے نہیں بلکہ سلامت اور محفوظ رہتے ہیں لیکن اس میں نبی یا مومن کی کوئی شرط نہیں۔ایک کافر بھی وہاں دفن کیا جائے گا تو اس کا جسم محفوظ رہے گا۔اس کے مقابلہ میں بعض زمینوں میں اس قسم کے کیمیاوی مادے ہوتے ہیں کہ وہاں جو شخص دفن ہواس کا جسم تھوڑے دنوں میں ہی مٹی ہو جاتا ہے۔وہاں کا فر مومن، نبی اور غیر نبی جو بھی دفن ہوگا میرا یقین ہے کہ اس کا جسم کچھ عرصہ کے بعد ضرور متغیر ہو جائے گا۔پس یہ خیالات جو مشرکانہ ہیں ہم ان کے قریب بھی نہیں جاتے۔اگر کسی احمدی کے دل میں ایسا خیال ہو تو اسے اپنے دل سے اسے بالکل دور کر دینا چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ روح کو اس ظاہری قبر کے ساتھ ایک لگاؤ اور تعلق ضرور ہوتا ہے اور گومر نے والوں کی روحیں کسی جہان میں ہوں اللہ تعالیٰ ان ظاہری قبروں سے بھی ان کی ایک رنگ میں وابستگی پیدا کر دیتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک بزرگ کی قبر پر دعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا جب میں دعا کر رہا تھا تو صاحب قبر اپنی قبر میں سے نکل کر میرے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھ گیا۔مگر اس سے مراد بھی یہ نہیں کہ ان کی روح اس مٹی کی قبر سے باہر نکلی بلکہ ظاہری تعلق کی وجہ سے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مٹی کی قبر پر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کو اپنی اصل قبر سے آپ تک آنے کی اجازت دے دی۔وہی قبر جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَاقْبَرَهُ۔اس قبر میں مرنے کے بعد انسان کی روح رکھی جاتی ہے ورنہ یہ قبریں دنیا میں ہمیشہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کھودی جاتی ہیں اور ان کے اندر سے کچھ بھی نہیں نکلتا بلکہ ایک قبر کا اوپر کا نشان جب مٹ جاتا ہے تو اسی جگہ دوسرا شخص دفن کر دیا جاتا ہے پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسی جگہ تیسرا شخص دفن کر دیا جا تا ہے۔یہاں تک کہ ایک