فرموداتِ مصلح موعود — Page 16
۱۶ عقائد ونظریات محبت پیدا کرتی ہے اور اس کے اعمال کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اگر آئندہ زندگی پر ایمان نہ رہے تو نہ صرف تمام کارخانہ عالم کا ایک عبث اور لغو چیز ہونا تسلیم کرنا پڑتا ہے بلکہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی بھی ایک بیکار عمل قرار پاتا ہے۔مگر یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند، ستاروں اور سیاروں اور آسمان اور زمین کے درمیان کی ہزار ہا چیزیں پیدا کر کے اور ان میں اپنی قدرت کے ہزار ہاراز ودیعت کر کے ایک ایسے انسان کو پیدا کیا جس نے چند سالہ زندگی بسر کر کے ہمیشہ کے لئے فنا ہو جانا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اہم مقصد نہیں۔ایک ایسا خیال ہے جسے کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔انسان کے لئے اس قدر وسیع کائنات کا پیدا کرنا اور اس پر عقل کے ذریعہ انسان کو حکومت بخشنا بتاتا ہے کہ اس کے لئے اس محدود زندگی کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی مقرر کیا گیا ہے اور اسلام کہتا ہے کہ وہ مقصد یہی ہے کہ اسے ایک دائمی حیات کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور دائمی روحانی ترقیات کا راستہ اس کے لئے کھولا گیا ہے۔پس موت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ انسانی روح جسم سے جدا ہوگئی ورنہ روح پر کوئی فنا نہیں اور وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے غیر متناہی مراتب حاصل کرتی رہتی ہے۔( تفسیر کبیر۔جلد ششم ، سورۃ مومنون۔صفحہ ۷۲ صفحه ۱۷۱ ۷۲ از بر آیت أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنتُمْ تُرَابًا) اجساد انبیاء جو شخص مٹی کے نیچے دفن ہے وہ مٹی کا ایک ڈھیر ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔میں اس بات کا بھی قائل نہیں کہ انبیاء کے جسم محفوظ رہتے ہیں اور مٹی انہیں نہیں کھاتی۔یہ بائیبل سے صاف ثابت ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی ہڈیاں مصر سے کنعان لائی گئیں۔بعض احادیث میں بھی اس کا ذکر ہے۔پس یہ غلط خیال ہے کہ انبیاء کا جسم محفوظ رہتا ہے۔جو شخص مٹی کی قبر میں دفن ہے وہ مٹی ہے۔جس