فرموداتِ مصلح موعود — Page 391
۳۹۱ متفرق شطرنج سوال :۔لوگ کہتے ہیں کہ شطرنج کھیلنے سے دماغی تربیت ہوتی ہے۔حضور کا کیا خیال ہے؟ جواب :۔فرمایا۔ہر وہ کھیل جو انسان کو کلیہ اپنی طرف متوجہ کر لے اور انسان کو علمی ترقی سے روک دے۔اس میں حصہ لینا شریعت نا پسند کرتی ہے۔شطرنج ایسی کھیل ہے کہ کھیلنے والوں پر اتنی محویت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ کئی کئی دن حتی کہ بعض دفعہ چھ چھ مہینے تک اس میں مصروف رہتے ہیں اور دوسرے کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔لیکن شریعت چاہتی ہے کہ حد سے باہر قدم نہ رکھا جائے۔ورنہ جس حد تک کھیل سے دماغی تازگی پیدا ہونے کا تعلق ہے شریعت اس سے منع نہیں کرتی خواہ کوئی بڑا آدمی ہو یا چھوٹا اسے کوئی نہ کوئی ایسا شغل ضرور چاہئے جس سے اس کے دماغی بوجھ میں کمی واقع ہو سکے۔ہمارے پنجاب میں ایک کھیل بارہ ٹہنی کھیلی جاتی ہے اس کے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر کسی وقت میں یہ دیکھوں کہ ہر جگہ لوگ بارہ ٹہنی کھیل رہے ہیں اور اپنے اوقات کا اکثر حصہ اسی کھیل میں صرف کر رہے ہیں تو اس وقت اگر کوئی مجھے پوچھے تو میں یہی کہوں گا یہ بخت بُری کھیل ہے مگراب چونکہ اس میں لوگوں کا زیادہ تو غل نہیں اس لئے کبھی کبھی کھیلنے میں حرج نہیں ہے۔الفضل ۱۴ را پریل ۱۹۳۱ء۔جلد ۱۸۔نمبر ۱۱۹ صفحه ۵) غیرمسلموں کو السلام علیکم کہنا میرا اپنا طریق تو یہ ہے کہ سب کو السلام علیکم کہتا ہوں۔ہاں کوئی شقی جیسا کہ لکھر ام تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلام نہیں کیا۔اگر ملے تو ممکن ہے کہ طبیعت رکے۔عام لوگ باوجود دشمن ہونے کے دھو کہ خوردہ ہیں اور سلام کی دعا کے مستحق۔الفضل ۲۱ را گست ۱۹۴۶ء - جلد ۳۴ نمبر ۱۹۵ صفحیم ) سوال : ملا غیر احمدی مکفر واشد مخالف سلسلہ کو سلام میں سبقت کرنا جائز ہے؟