فرموداتِ مصلح موعود — Page 353
۳۵۳ شعار اسلامی (داڑھی)کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود کا ارشاد حضور نے ایک موقع پر فرمایا:۔میں دیکھتا ہوں کہ نو جوانوں کے چہروں سے داڑھیاں غائب ہوتی جارہی ہیں۔وہ دن بدن ان کو چھوٹا کرتے جارہے ہیں۔حالانکہ ہم نے شخصی کی اجازت تو ان لوگوں کو دی تھی جو کہ اُسترا پھیرتے تھے۔انہیں کہا گیا تھا کہ تم اُسترا نہ پھیر واور چھوٹی چھوٹی شخشی داڑھی ہی رکھ لولیکن یہ جواز جو کہ اُسترا والوں کے لئے تھا اس پر دوسرے لوگوں نے بھی عمل کرنا شروع کر دیا۔اور جن کی بڑی داڑھیاں تھیں ان میں سے بھی بعض نے اس جواز سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خشخشی کرلیں حالانکہ جواز تو کمزوروں کے لئے ہوتا ہے۔ہمارا مطلب تو یہ تھا کہ جب اُسترا پھیرنے والے خشخشی داڑھیاں رکھ لیں گے تو پھر ہم ان کو کہیں گے کہ اب اور زیادہ بڑھاؤ اور آہستہ آہستہ وہ بڑی داڑھی رکھنے کے عادی ہوجائیں گے۔لیکن اس جواز کا اُلٹا مطلب لیتے ہوئے بعض لوگوں نے بجائے داڑھیاں بڑھانے کے نے سے شخصی کرلیں۔۔۔۔پس میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں داڑھی کے متعلق خوب پرو پیگنڈا کریں۔خدام نو جوانوں کو سمجھا ئیں اور انصار اللہ بڑوں کو سمجھا ئیں اور یہ کوشش کی جائے کہ جو شخص داڑھی منڈوا تا ہے۔وہ شخشی داڑھی رکھے اور جو شخشی رکھتا ہے وہ ایک انچ یا آدھا انچ بڑھائے اور پھر ترقی کرتے کرتے سب کی داڑھی حقیقی داڑھی ہو جائے۔اسلام کے تمام احکام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے کوئی ایک حکم بھی بغیر مصلحت کے نہیں۔داڑھی رکھنے میں بھی کئی حکمتیں اور کئی مصالح ہیں۔یہ جسمانی صحت کے لئے داڑھی