فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 334

۳۳۴ معاملات لوگ پیچھے رہتے چلے جائیں تو جماعت کی ترقی رک جائے گی۔الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۵ صفحه ۷ ) رشوت و نذرانه ایک صاحب کو حضور نے رشوت کی یہ تعریف لکھائی۔وڈھی (رشوت ) اس رقم کو کہتے ہیں جو کسی ایسے شخص کو دی جائے کہ جس کے ہاتھ میں کسی امر کا فیصلہ ہوتا ہے جس کے ساتھ دو غیر شخصوں کے فوائد وابستہ ہوتے ہیں۔جور تم کہ اس غرض کے لئے دی جاتی ہے کہ وہ شخص اس امر میں فیصلہ کرتے وقت اس روپیہ دینے والے کی تائید کرے اور اس کے حق میں کلی طور پر یا جزئی طور پر فیصلہ دیدے وہ رشوت ہوتی ہے۔اگر بلاکسی سمجھوتے کے خواہ وضا حنا ہو یا اشارۃ اور کنایہ کسی ایسے کام کے متعلق جس میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچتا ہوا گر کوئی رقم کسی سرکاری کارکن کو دے دی جائے تو وہ رشوت کی تعریف کے ماتحت نہیں آئے گی۔ہاں اکثر حالات میں چونکہ ایسی رقوم افسروں کے اخلاق کے بگاڑنے کا موجب ہو جاتی ہیں اس لئے اس سے حتی الوسع پر ہیز کرنا چاہئے۔بعض ایسی بھی صورتیں ہو جاتی ہیں کہ بعض سرکاری کارندے کسی کا حق تلف کئے بغیر زائد وقت خرچ کر کے اور محنت کر کے کسی شخص کا کوئی کام کر دیتے ہیں ایسے وقتوں میں اگر کچھ رقم دی جائے اور وہ سرکاری قانون کے خلاف نہ ہوتو وہ اخلاق حسنہ کے خلاف نہیں بلکہ عین مطابق ہوگی۔الفضل ۴ دسمبر ۱۹۲۳ء - جلد ۱۱ نمبر ۴۴، ۴۵ صفحه ۶) سوال :۔ایک صاحب پوچھتے ہیں جو ڈا کٹر دیہات میں جاتے ہیں اگر نمبر دار انہیں ایک روپیہ نذرانہ دیں اور حکام اسے جانتے بھی ہوں تو کیا جائز ہے؟ جواب :۔فرمایا۔رشوت حرام اور علاج کی فیس جائز۔الفضل ۲۵ را پریل ۱۹۱۵ء - جلد ۲ نمبر ۱۳۱ صفحه ۲)۔