فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 10

عقائد ونظریات سٹینڈرڈ نہیں سب نسبتی امر ہیں۔اس لئے جن امور کا تقویٰ سے تعلق ہے یا دین کی حفاظت سے تعلق ہے ان میں ہم ان لوگوں سے اجتناب کرتے ہیں۔جن کے بعض عقائد یا اعمال غیر اسلامی ہوں اور سوشل تعلقات یا سیاسی تعلقات میں ہم ہر مسلمان کہلانے والے کو مسلمان ہی کہتے ہیں اور وہی اس سے سلوک کرتے ہیں کیونکہ اس میں تقویٰ کا سوال یا حفاظت دین کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ اسلام تو سیاسی امور میں غیر مسلم کو بھی مسلم والے ہی حقوق دیتا ہے۔مسلمان کہلانے والا تو بدرجہ اولیٰ اس مساوات کا مستحق ہے۔( فائل مسائل دینی نمبر 1 1-51-1-6269/15 DP) خلفاء کی اطاعت خلفاء،ان کے لئے ضروری نہیں کہ اسوہ ہوں اور ان کی اطاعت ویسی نہیں ہوتی جیسی انبیاء کی ہوتی ہے۔نبی تو جو کہتا ہے وہ ماننا ضروری ہوتا ہے لیکن ایک خلیفہ اگر اپنے وقت میں کوئی مسئلہ بیان کرتا ہے اور کوئی اسے سمجھ نہیں سکتا تو اس میں اختلاف ہو سکتا ہے اور اس کی مثالیں موجود ہیں۔حضرت ابوبکر کے وقت آپ ایک مسئلہ اور رنگ میں بیان فرماتے اور بعض صحابہ اور رنگ میں۔اور سوائے سیاسی اور انتظامی معاملات کے اس وقت خلیفہ جو کہتا اس پر عمل ہوتا۔تو مسائل میں اختلاف کیا جاتا تھا چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکر نے کہا میں ان سے کافروں والا معاملہ کروں گا۔حضرت عمر اور دوسرے صحابہ اس کے خلاف تھے مگر حضرت ابو بکر نے کسی کی نہ مانی اور ان لوگوں کو قید کیا اور غلام بنائے گئے۔اسی طرح اور خلفاء کے زمانہ میں بھی بعض مسائل میں اختلاف ہوتا رہا ہے۔تو رسول کی اطاعت اور خلیفہ کی اطاعت میں فرق ہے۔رسول سے کسی بات میں اختلاف کرنا نادانی اور جہالت ہے اور یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ خدا نے غلطی کی ہے کیونکہ رسول کا کلام خدا تعالیٰ کے کلام کی تفسیر ہوتا ہے۔انبیاء کی ہر بات مانی ضروری ہوتی ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام کی تفسیر ہوتے ہیں مگر خلفاء ایسے نہیں ہوتے۔اگر ہوں تو یہ ان کا ذاتی کمال ہو گا خلافت سے اس کا تعلق نہیں۔اس لئے ان کی اطاعت نبی