فرموداتِ مصلح موعود — Page 333
۳۳۳ معاملات تو بہت زیادہ روپیہ وارثوں کومل سکے گا۔اس میں ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی قسط ادا نہ کی جائے تو سب ضائع ہو جاتا ہے۔یہ پورا جوا ہے ہم نے اس کے حلال کی یہ تجویز کی تھی کہ لوگ روپیہ دیں اور آپس میں معاہدہ کر لیں کہ اس کا کچھ منافعہ تو حصہ وارانہ تقسیم کیا جائے گا اور کچھ جوممبر مر جائیں ان کے ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے گا۔منافع کوئی مقرر نہ ہو بلکہ جو بھی ہو تقسیم کر دیا جائے۔اگر نہ ہو تو نہ کیا جائے۔قواعد اس کے بھی اسی طرح رکھے جائیں کہ جو قسط نہ دے گا اس کی رقم ضبط ہوگی تا کہ ادائیگی قسط سے کوئی شخص رکے نہیں۔لیکن ایسا کیا نہ جائے۔یہ رقم جمع کر کے میرا ارادہ تھا کہ زمین اور مکانات رہن لے لئے جائیں یہ تجارت بہت اچھی ہے اس میں خسارہ کا احتمال نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص کسی کا مکان رہن لیتا ہے اور وہ مکان گر جائے تو مالک کا فرض ہے کہ اسے تعمیر کرائے کیونکہ جو چیز اس نے روپیہ کے بدلہ میں دی تھی وہ جب رہی نہیں تو رہن کیسا۔ہاں جب تک تعمیر نہ ہوگا اس وقت تک کرایہ نہ ملنے کے خسارہ رہن رکھنے والے کو بھی ہوگا۔ڈالی دینا الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۴۲ صفحه ۱۰۷۹) ایک صاحب نے اپنے محکمہ میں اپنی حق تلفی کا ذکر کیا جو اس وجہ سے ہوئی کہ وہ افسران بالا سے مل کر ڈالی وغیرہ نہ دے سکے تھے ؟ فرمایا :۔آپ بھی ڈالی دے دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے دوسرے کی حق تلفی کے لئے نہیں۔لیکن اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ڈالی دے دینا نا جائز نہیں۔اس پر ایک صاحب نے کہا یہ بات بظا ہر ایک احمدی کے لئے موزوں معلوم نہیں ہوتی کہ رشوت دے۔فرمایا:۔احمدیت کے بانی نے تو اس کی اجازت دی ہے۔بے شک یہ ایک کمزوری ہے لیکن ہماری اپنی حکومت تو نہیں کہ سب نقائص دور کر دیں۔انفرادی اخلاق قومی ضروریات کے ماتحت ہوتے ہیں یہ تو ایک انفرادی خلق ہے کہ رشوت نہ دی جائے۔لیکن اگر اسی طرح ہماری جماعت کے