فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 332

۳۳۲ معاملات ریل یا جہاز کی کمپنی سے انشورنس کرانا جائز ہے لیکن ٹامس لک وغیرہ جس کا فرض اسباب کو پہنچا دینا نہیں اس سے انشور کرانا نا جائز ہے۔زندگی کا بیمہ کرانا جائز نہیں ، مکانوں کو انشور کرانا بھی جائز نہیں۔سوال :۔پچاس یا سو آدمی مل کر ایک قسم کا فنڈ بنا ئیں۔جس میں سب چندہ دیا کریں تا کہ اگران میں سے کسی کے مکان کو آگ لگ جائے تو اس کی مدد کی جائے تو کیا یہ جائز ہے؟ جواب:۔ہندوستان میں بہت سی کو آپریٹو سوسائٹیاں بن رہی ہیں جن کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح اگر لوگ مل کر ایک سوسائٹی اس مقصد کے لئے بنائیں کہ سب چندہ دیا کریں اور اگر ان میں سے کسی ایک کا کچھ نقصان ہو جائے جو کہ اس کی غفلت کا نتیجہ نہ ہو تو اس کے ایسا ثابت کرنے پر اس کی مدد کی جائے تو یہ جائز ہے۔لیکن یورپ میں بہت سے لوگ اپنے مال کو انشور کرا کے خود اپنا نقصان کر لیتے ہیں تا کہ بیمے کا روپیہ حاصل ہو جائے۔الفضل ۲۸ / اپریل ۱۹۲۱ء - جلد ۸ نمبر ۱ ۸ صفحه ۶) پراویڈنٹ فنڈ سوال:۔سود اسی کو کہا جاتا ہے جو روپیہ بغیر محنت کے زائد مل جائے اس صورت میں کیا پراویڈنٹ فنڈ سود نہیں؟ جواب : نہیں۔پراویڈنٹ فنڈ میں کام کرانے والا ادارہ کارکن کی امداد کرتا ہے اور وہ امداد اس کے روپیہ کے عوض میں نہیں ہوتی۔وہ ادارہ اس سے رو پید اپنے فائدہ کے لئے نہیں کاٹتا بلکہ اس روپیہ کا فائدہ بھی کارکن کو ہی دیتا ہے اور جہاں گورنمنٹ جبر اروپیہ وضع کرتی ہے اور پھر اس پر منافع دیتی ہے وہ جائز ہے اور سود نہیں۔کیونکہ سود تو روپیہ کے عوض میں ہوتا ہے جو اس نیت سے کسی کو خود دیا جائے کہ مجھے زیادہ ملے گا۔بیمہ میں بھی یہی صورت ہے اس میں آدمی اسی نیت سے روپیہ جمع کراتا ہے کہ اگر کل مرجاؤں