فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 331

۳۳۱ معاملات تفاصیل کوناجائز قرار دیتے ہیں۔ایک دوست نے یہ سوال کیا کہ یوپی گورنمنٹ نے حکم دیا ہے کہ ہر شخص جس کے پاس کوئی موٹر ہے وہ اس کا بیمہ کرائے۔کیا یہ جائز ہے؟ اس کے متعلق بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ حکم صرف یو پی گورنمنٹ کا ہی نہیں بلکہ پنجاب میں بھی گورنمنٹ کا یہی حکم ہے۔یہ بیمہ چونکہ قانون کے ماتحت کیا جاتا ہے اور حکومت کی طرف سے اسے جبری قرار دیا گیا ہے اس لئے اپنے کسی ذاتی فائدہ کے لئے نہیں بلکہ حکومت کی اطاعت کی وجہ سے یہ بیمہ جائز ہے۔الفضل مر نومبر ۱۹۶۱ء صفحه ۳ - فرموده ۲۵ جون ۱۹۴۷ء) پسماندگان کی مدد اسی طرح ایک ضروری امر پسماندگان کی مدد ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ دین کے لئے قربان کر دو تو جولوگ اس پر عمل کرتے ہیں ان کے فوت ہونے پر ان کے پسماندگان کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ایسے حاجتمندوں کے لئے ایک فنڈ ہونا ضروری ہے۔جس میں چندہ دینا لازمی نہ ہو بلکہ مرضی پر ہو۔اور اس کے لئے ایسا قانون بنادیا جائے کہ جو اتنا چندہ دیدے اسے اتنے عرصہ کے بعد اتنی رقم بالمقطع دی جائے گی یا اگر فوت ہو جائے تو پسماندگان کو اتنی رقم ادا کر دی جائے۔اگر کسی ایسے فنڈ کا انتظام ہو جائے تو پسماندگان کا انتظام ہوسکتا ہے۔اس کے متعلق میں تفصیلی طور پر اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔میرا ارادہ ہے کہ مجلس مشاورت میں اسے پیش کیا جائے اور اسے ایسے رنگ میں رکھا جائے کہ سود نہ رہے، انشورنس نہ ہواور کام بھی چل جائے۔مثلاً یہی فیصلہ ہو کہ اس عمر تک پسماندگان گوگزارہ دیا جائے گا یا یہ کہ بچوں کو اس قدر تعلیم دلائی جائے گی۔(انوار العلوم جلد ۹۔منہاج الطالبین صفحہ ۱۷۱) سوال :۔کیا چٹھیوں کو ڈاکخانے میں انشور کرانا جائز ہے؟ جواب : فرمایا کہ ہاں چٹھیوں کا پہنچادینا ڈاک خانہ کا فرض ہے لیکن کسی اور سے جس کا یہ فرض نہ ہو انشور کرانا جوئے کی طرح ہو جاتا ہے۔یہ نا جائز ہے۔