فرموداتِ مصلح موعود — Page 324
۳۲۴ معاملات اپنی زندگی میں جائیداد کا حصہ صبہ کردے اور لڑکی باپ کی زندگی میں ہی فوت ہو جائے تو وہ جائیدادان لوگوں کے پاس چلی جائے گی جن کو شریعت نے اس کا وارث نہیں بنایا۔الفضل و ر مئی ۱۹۴۵ ء - جلد ۲۳ - نمبر ۱۰۹ صفحه ۲) سوال :۔کیا غیر احمدی مسلمان ایک احمدی مسلمان کی وفات پر اس کی جائیداد سے بروئے قانون شریعت حصہ لے سکتا ہے؟ جواب:۔یقیناً لے سکتا ہے۔یہ ایسا اختلاف نہیں کہ ورثہ روک دے۔ہاں لوگ ورثہ نہ دیتے ہوں تو بدلہ کے طور پر ان سے دوسرا سلوک ہوسکتا ہے۔الفضل ۴ رمئی ۱۹۵۴ ء صفحه ۲ ) سوال :۔احمدیوں نے اپنے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے اس لئے یہ ان کے وارث نہیں ہو سکتے ؟ جواب :۔فرمایا۔یہ میچ نہیں کہ احمدیوں نے بزرگوں کے مذہب کو ترک کر دیا ہے بلکہ احمدی ان تمام باتوں کو مانتے ہیں جو ان کے بزرگ مانتے تھے البتہ ایک بات ان میں زائد ہے اور وہ یہ کہ ان بزرگوں میں جو ایک پیشگوئی چلی آرہی تھی کہ ایک شخص آنے والا ہے۔وہ ان کے زمانہ میں مبعوث ہوا اور انہوں نے ان تمام نشانات سے جو اس کے لئے پہلے سے مقرر تھے اس مامور کو پہچان کر قبول کر لیا۔پس احمدیوں کا اختلاف اپنے بزرگوں سے نہیں بلکہ موجودہ لوگوں سے ہے۔اس لئے ان کے حقوق تلف نہیں ہو سکتے۔الفضل ۲۸ فروری ۱۹۲۱ء۔جلد ۸ نمبر ۶۴ صفحه ۷ ) یتیم پوتا اپنے دادا کاکیوں وارث نهیں هوتا سوال : یتیم پوتا اپنے دادا کا کیوں وارث نہیں ہوسکتا؟