فرموداتِ مصلح موعود — Page 320
نہیں کرتا اور یہ نا جائز ہے۔۳۲۰ معاملات یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ فقہاء نے جو ہبہ کی اجازت دی ہے اس کی حقیقت لوگوں نے نہیں سمجھی۔اصل بات یہ ہے کہ ایک وقتی ذمہ داری ہوتی ہے۔جس کے متعلق اور احکام ہیں اور ایک مستقل تقـ ہوتی ہے جس کے متعلق اور احکام ہیں۔ہبہ یہ ہے کہ کوئی شخص پوری جائیدا دیا اس کا کوئی بڑا حصہ کسی کے نام منتقل کر دے۔یہ ہبہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں سوائے استثنائی صورتوں کے قطعی طور پر نا جائز ہے لیکن ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت کسی ایک بیٹے کو دوسرے بیٹوں سے کچھ زائد دے دیا جائے۔یہ صورت چونکہ تربیت حالیہ سے تعلق رکھتی ہے۔اس لئے جائز ہے مثلاً کسی شخص نے اپنے ایک بیٹے کو ایم اے کروایا مگر اس کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی یا اسے تجارت میں نقصان پہنچ گیا تو اس صورت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے باقی بیٹوں پر بھی اتنا خرچ کرے جتنا کہ اس نے اپنے ایم اے بننے والے بیٹے پر کیا تھا۔الفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحه ۳ تا ۵) امتیازی هبه ایسا بہ کرنا جس میں امتیاز پایا جاتا ہو اسلامی روح کے خلاف ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔قاضیوں کو بھی اس مسئلہ کے متعلق اچھی طرح علم ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی ایسا معاملہ ان کے سامنے پیش ہو جس میں نظر آئے کہ اس میں امتیاز پیدا ہورہا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس امتیازی سلوک کی تردید کرتے ہوئے حقدار کوحق دلائیں اور اگر اس معاملہ میں امتیازی سلوک نہ ہو بلکہ مصلحت وقت کے ماتحت کسی نے ایسا کیا ہو تو اسے قبول کر لینا چاہئے مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنے بڑے بچوں کو پڑھا لیا ہے اور اب میرے چھوٹے بچے رہ گئے ہیں جن کو تعلیم دلانا مقصود ہے اور میں بوڑھا ہو چکا ہوں اس لئے چھوٹے بچوں کے لئے میں اس قدر رو پید ریز رو کر دینا