فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 7

عقائد و نظریات موجودہ دنیا سے پہلے لوگوں کی جزا و سزا سوال :۔کیا جزا سزا اور قیامت ان لوگوں کے لئے بھی جو گزشتہ جہانوں سے تعلق رکھتے تھے قائم کی گئی اور ان کی روحیں اب اپنے اعمال کے مطابق دوزخ یا بہشت میں ہوں گی یا یہ کہ جب ایک نئی دنیا پیدا کی جاتی ہے تو گزشتہ جہانوں کی روحیں تباہ ہو جاتی ہیں کیونکہ خدا روحوں کو پیدا کرتا ہے اور ان کو برباد بھی کر سکتا ہے۔تمام روحیں اس کی قدرت یا مرضی کے ماتحت ہیں؟ جواب:۔یہ بالکل صحیح ہے کہ وہ انسان جو ہماری دنیا سے پہلی دنیا میں گزر چکے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے انعامات اور اس کی جزاء حاصل کر رہے ہوں یا وہ تباہ کر دیئے گئے ہوں اور ان کی جگہ ایک نئی دنیا پیدا ہوگئی ہو لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم سے پہلے جو مخلوق گزر چکی ہے اس کی ارواح کس حد تک کمال کو پہنچ چکی تھیں اور نہ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سزا دائمی تھی یا محدود اس لئے ہم بالجزم یہ بات نہیں کہہ سکتے کہ آیا اس مخلوق کی ارواح دائمی انعامات پارہی ہیں یا سزا حاصل کر رہی ہیں یا بوجہ اس کے کہ ان کی ارواح موجودہ انسانی ارواح سے نامکمل تھیں۔وہ تباہ کر دی گئیں۔اس سوال کا جواب چونکہ ہماری بہتری یا ہماری روحانی ترقی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا اس لئے قرآن کریم اس بارہ میں خاموش ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی صفت پر روشنی ڈالنے کے لئے صرف اتنا بتا تا ہے کہ ہم سے پہلے بھی مخلوق ہوا کرتی تھی اور یہ کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں تعطل نہیں ہوتا۔یہ بالکل صحیح ہے کہ ارواح خدا تعالیٰ کی مرضی کے ماتحت ہیں اور وہ تباہ کرسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ تباہ کر بھی دے۔اگر وہ چاہے اور قائم رکھے تو کوئی اس کے راستہ میں روک نہیں بن سکتا۔الفضل ۲ / جولائی ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔صفحہ ۶) جنت دوزخ کا مقام سوال :۔جنت اور دوزخ کہاں ہیں؟