فرموداتِ مصلح موعود — Page 283
۲۸۳ حدود والـزانــی کے الفاظ رکھے ہیں یعنی الف لام کی زیادتی کی گئی ہے اور الف لام کی زیادتی ہمیشہ معنوں میں تخصیص پیدا کر دیا کرتی ہے۔پس اس جگہ الزانية والزانی سے صرف ایسا شخص مراد ہو سکتا ہے جو یا تو زنا کا عادی ہو یا علی الاعلان ایسا فعل کرتا ہو۔اور اتنا نڈر اور بے باک ہو گیا ہو کہ وہ اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کرتا ہو کہ کوئی اس دیکھ رہا ہے یا نہیں یا اس میں شہوت کا مادہ تو نہ ہو پھر بھی وہ زنا کرتا ہو جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت۔ان معنوں کے لحاظ سے حدیث کی بھی ایک رنگ میں تصدیق ہو جاتی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے:۔الشيخ والشيخة اذازنيافارجموها البتة ایک بڑی عمر والا مرد یا ایک بڑی عمر والی عورت اگر زنا کریں تو ان کو پتھر مار مار کر مار دو۔گویا الزانية والزانى كے معنى الشيخ و الشيخة کے ہی ہیں۔( تفسیر کبیر جلد ششم سوره نور صفحه ۲۴۸ تا ۲۵۷ ملخصا) زنا کی سزا رجم نھیں سوال :۔زنا کی سزا رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں۔احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سزا کو دیا۔آیا حدیث کو ہم خلاف قرآن سمجھ کر ترک کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی کیا تشریح کریں؟ جواب :۔احادیث ہر زمانہ کے متعلق ہیں۔سزائے رجم کے متعلق احادیث قرآنی احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جب تک قرآن کریم میں معین احکام نازل نہ ہوئے آپ تو رات کے احکام کی تعمیل کرواتے تھے اور تورات میں رجم موجود ہے۔پس اب رجم کی سز اسلام میں نہیں کوڑوں کی سزا ہے جو قر آن کریم میں مذکور ہے۔فائل مسائل دینی اا۔DP6269/15۔1۔51) ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ Stoning اسلام میں جائز نہیں۔پرانے علماء کا عقیدہ تھا کہ سٹونگ