فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 273

۲۷۳ حدود زناکا الزام چونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں عام طور پر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہوئی ہے اس لئے میں اپنے ہاتھ سے اس خط کا جواب لکھتا ہوں۔قرآن کریم کی رو سے زنا کا الزام لگانے والے دو قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ا۔خاوند یا بیوی ۲۔غیر مرد یا عورت اگر الزام لگانے والا خاوند یا بیوی ہو ( خاوند کا صریح ذکر قرآن کریم میں ہے۔بیوی کا معاملہ اس پر قیاس کیا جاوے گا کیونکہ قرآن کریم میں سوائے خاص طور پر مذکور ہونے کے بالمقابل حکم بیان ہوتے ہیں ) تو گواہوں کی عدم موجودگی میں ملاعنہ ہوگا یعنی ایک دوسرے کے مقابل اسے قسم دی جاوے گی۔ایک گواہ کے مقابل ایک قسم ہوگی۔اور پانچویں دفعہ لعنت ہوگی۔جھوٹے پر عذاب نازل ہونے کی دعا کی جاوے گی۔اگر غیر خاوند یا غیر زوجہ الزام لگاوے تو اس کے لئے صرف چار گواہ لانے ہوں گے نہ اس کے کہنے پر قسم دی جاسکتی ہے نہ الزام لگانے والے کی قسم کچھ حقیقت رکھتی ہے۔بغیر گواہوں کے الزام لگانے والا بہر حال جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے الزام کے مقابل پر قسم نہ کھانے والا ہرگز ہرگز زیر الزام نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے جب الزام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب تک دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر مانتی ہوں تو جھوٹ ہے اور اگر انکار کرتی ہوں تو لوگ نہ مانیں گے پس میں جواب ہی کچھ نہیں دیتی۔خدا شاہد ہے،خدا نے ان کے اس فعل کی تائید کی اور ان کو بری قرار دیا۔پس پبلک میں اس پر قسم لینا بطور عدالت کے ناجائز ہے نہ ایسی قسم حجت ہے اور شرعاً الزام لگانے والا جھوٹا ہے اور اس کو ہم اس وقت تک جھوٹا سمجھیں گے جب تک وہ چار گواہ نہیں لاتا اور اگر اسلامی شریعت ہو تو اس کو کوڑے لگیں گے۔اگر اس نے فی الواقع کچھ دیکھا بھی ہے تو اس کا فرض ہے کہ خاموش رہے اور خدا تعالیٰ کی ستاری کے مقابل نہ کھڑا ہو جائے۔الفضل ۷ اگست ۱۹۲۳ء۔جلد نمبر ۹ صفحه ۶)