فرموداتِ مصلح موعود — Page 252
۲۵۲ خلع میرے نزدیک اگر لڑکے والوں نے لڑکی کے رشتہ داروں کو کچھ دیا تو وہ واپس نہ ملے گا کیونکہ وہ تحائف ہیں اور تحائف دوسرے لوگوں کو دے کر واپس نہیں لئے جا سکتے۔شریعت کا اصول یہ ہے کہ خلع کا مطالبہ لڑکی کی طرف سے ہوتا ہے اور شریعت اسے یہ اختیار دیتی ہے کہ خاوند کا مال اسے دے کر خلع کرالے۔تبادلہ مال کا مسئلہ شریعت کا نہیں ہے۔نہ معلوم اس کا خیال کس طرح پیدا ہو گیا۔میں نے جو تبادلہ لکھا تھا اس کا یہ مطلب تھا کہ جو مال لڑکی کا (خاوند) کے پاس تھا وہ اسے واپس دلایا جائے۔پس صرف ایسا ہی مال واپس کیا جا سکتا تھا جولڑ کی کا مال سمجھا جاتا تھا اور گھر جاتے ہوئے لڑکی بھول گئی یا اسے لے جانے نہیں دیا گیا۔جو مال لڑکی کا نہیں یعنی اس وقت اس کی ملکیت نہیں وہ اسے نہیں دلایا جا تا۔اس کی کوئی سند شریعت میں نہیں۔اسی طرح وہ روپیہ جولڑ کی کے مملوکہ مال کی صورت میں ( خاوند ) کے ذمہ ہے وہ انہیں دینا پڑے گا۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبرا۔صفحہ ۷۳۔دارالقضاء، ربوہ) لڑکی کی شادی کی عمر و خیار بلوغ لڑکیوں کی شادی اس عمر میں جائز ہونی چاہئے جبکہ وہ اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ سکیں اور اسلامی حکم یہی ہے کہ شادی عورت کی رضا مندی کے ساتھ ہونی چاہئے اور جب تک عورت اس عمر کو نہ پہنچ جائے کہ وہ اپنے نفع ونقصان کو سمجھ سکے۔اس وقت تک اس کی رضامندی بالکل دھوکہ ہے۔لیکن ہمارے مذہب نے اشد ضرورت کے وقت اس بات کی اجازت دی ہے کہ چھوٹی عمر میں بھی لڑکی کی شادی کی جاسکتی ہے لیکن اس صورت میں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ وہ بڑی ہو کر اگر اس شادی کو پسند نہیں کرتی تو مجسٹریٹ کے پاس درخواست دے کر اس نکاح کو فسخ کرائے۔عام طور پر باقی فرقہائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ ایسا نکاح اگر باپ نے پڑھوایا ہوتو نکاح فسخ نہیں ہوسکتا لیکن ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر صورت میں نکاح فسخ ہوسکتا ہے خواہ باپ نے کرایا ہو یا کسی اور نے۔کیونکہ جب لڑکی کی رائے بلوغت میں باپ کی رائے پر مقدم مجھی گئی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ باپ کے پڑھوائے