فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 251

۲۵۱ خلع ہے۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر وقت کی تعیین اور اجازت مرد کا حق ہے مثلاً خاوند یہ کہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کو مل لینا یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلالے یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے مگر جس طرح مرد اپنے والدین کو ملتا ہے اسی طرح عورت کا بھی حق ہے سوائے ان صورتوں کے کہ دونوں کا سمجھوتا ہو جائے مثلاً جب فساد کا اندیشہ ہو یا فتنہ کا ڈر ہو۔مرد تو پہلے ہی الگ رہتا ہے مگر عورت خاوند کی مرضی کے خلاف باہر نہیں جاسکتی۔ہاں خاوند اگر ظلم کرے تو قاضی کے پاس وہ شکایت پیش کر سکتی ہے لیکن اگر خاوند اس میں روک ڈالے اور گھر سے باہر نہ نکلنے دے تو پھر وہ گھر سے بلا اجازت باہر نکل سکتی ہے مگر اس کا فرض ہے کہ جلدی ہی مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کر دے تا قاضی دیکھ لے کہ آیا اس کے باہر نکلنے کی کافی وجوہ ہیں یا نہیں۔پھر وہ اس کو خواہ باہر رہنے کی اجازت دیدے یا گھر میں واپس لوٹنے کا حکم دے۔پس اگر خاوند ظلم کرتا ہو اور حقوق میں روک ڈالتا ہو اور قضاء میں جانے نہ دے تو پھر عورت بلا اجازت شوہر باہر نکل سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ قلیل ترین عرصہ میں وہ اس کے خلاف آواز اُٹھائے مثلاً ۲۴ گھنٹے کے اندر یا اگر مقدمہ عدالت میں ہو تو جتنا عرصه درخواست کے دینے میں عموماً لگتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ بالکل غلط طریق رائج ہے کہ عورت خاوند سے لڑ کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے۔والدین اس کی ناحق طرفداری کرتے ہیں اور فساد بڑھتا ہے دونوں کا معاملہ شریعت کے مطابق ہونا چاہئے۔الفضل ۲۲ را پریل ۱۹۲۷ء۔جلد ۱۴ نمبر ۸۳ صفحه ۵ ) خلع کی صورت میں لڑکی کیا کیا سامان واپس کرے سوال : خلع ، طلاق کی صورت میں لڑکی کیا تمام سامان واپس کرے؟ جواب :۔صرف وہ چیزیں جو بصورت جنس تھیں واپس ہونی چاہئے یاوہ روپیہ جو جنس کی صورت میں دیا گیا اور لڑکی کی طرف سے جو ملا ہے اسے شریعت نہیں دلاتی بلکہ اس کا مال دلاتی ہے۔اسی طرح