فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 226

۲۲۶ نکاح لڑکی والوں کی طرف سے دعوت لڑکی والوں کی طرف سے دعوت جہاں تک میں نے غور کیا ہے ایک تکلیف دہ چیز ہے۔لیکن اگر لڑکی والے بغیر دعوت کئے آنے والوں کو کچھ کھلا دیں تو یہ ہرگز بدعت نہیں۔ہاں اگر یہ کہا جائے جو نہیں کھلا تا ہوغلطی کرتا ہے تو یہ ضرور بدعت ہے اور اسی طرح جو یہ کہے کہ جو جہیز نہیں دیتا وہ غلطی کرتا ہے اور جہیز ضرور دینا چاہئے تو وہ بھی بدعت پھیلانے والوں میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے لڑکی کو کچھ دیتا ہے یا آنے والے مہمانوں کو کچھ کھلاتا ہے تو یہ ہرگز بدعت نہیں کہلا سکتی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مبارکہ بیگم کی شادی پر بعض چیزیں اپنے پاس سے روپیہ دے کر آنے والے مہمانوں کے لئے امرت سر سے منگوائیں۔جو شخص یہ سمجھ کر کہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ایسا کرتا ہے وہ بدعتی ہے لیکن جو شخص اپنے فطری احساس اور جذبہ کے ماتحت آنے والوں کی کچھ خاطر کرتا ہے اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔( مصباح ۱۵ مئی ۱۹۳۰ء - الازهار لذوات الخمار - صفحہ ۲۴۹۔ایڈیشن دوم) لڑکی کے رخصتانه کے موقع پر دعوت طعام رخصتانہ کے موقع پر مدعوین کو معمولی طور پر اسراف وفضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے چائے وغیرہ پیش کرنا جائز ہے۔دعوت طعام نا پسندیدہ ہے۔جماعتی طور پر یہ پابندی لگائی جائے کہ کوئی شخص اس موقع پر اپنی استطاعت کو نظر انداز کر کے کسی طرح سے اسراف نہ کرے۔فرمایا:۔درست ہے۔دستخط مرز امحمود احمد فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا ) (فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت ، فیصلہ نمبر ۱۔۲۲/۴/۱۹۵۷)