فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 225

۲۲۵ نکاح شخص نے شادی کے موقع پر چائے کی دعوت دی۔اس قسم کی عبارت پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔یہ صرف کچھ مدت سے شائع ہونی شروع ہوئی اور شائد کسی بدعت کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔واقعہ صرف یہ ہے کہ لڑکی والے بعض اپنے دوستوں کو دعا اور خوشی میں شمولیت کے لئے جمع کر لیتے ہیں اور بلا وے میں صرف اتنا لکھتے ہیں کہ ہماری لڑکی کی شادی ہے آپ بھی اس تقریب شامل ہوں اور دعا میں حصہ لیں۔یا اسی قسم کے اور الفاظ ہوتے ہیں۔اسی سلسلہ میں چونکہ برات آئی ہوئی ہوتی ہے ان کے اعزاز میں کھانے کی کچھ چیزیں رکھی جاتی ہیں تو یہ مدعومہمان اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔سادہ طور پر کوئی ہلکا ناشتہ اس موقع پر مہمانوں کے پیش کر دینا بری بات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایسے موقع پر دودھ وغیرہ پیش کیا ہے۔لیکن اس تقریب کو یہ رنگ دینا کہ وہ ایک با قاعدہ چائے کی دعوت تھی ایک بدعت کا قیام ہے۔جس کی تردید کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔اور میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ الفضل نے سابقہ رویہ کے خلاف اس امر پر کیوں زور دیا کہ اس طور پر ہلکے سے ناشتہ کے پیش کرنے کو جو پہلے ایک ضمنی چیز سمجھی جاتی تھی اب ایک با قاعدہ دعوت کی تقریب کیوں قرار دیا جانے لگا ہے۔نیز مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ الفضل میں گزشتہ ایام میں ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ کسی صاحب نے اپنی لڑکی کی شادی کی تقریب پر قادیان کے دوستوں کو با قاعدہ کھانے کی دعوت دی۔یہ ایک ناجائز فعل تھا۔جس نے دعوت دی اس نے بھی غلطی کی۔جو شامل ہوئے انہوں نے بھی غلطی کی۔الفضل نے اس خبر کو شائع کر کے ایک غلط امر کی تائید کی اور اس کی اشاعت میں حصہ لینے کا گناہ کیا۔حضرت خلیفہ اول اس قسم کی دعوت کو خلاف شریعت قرار دیا کرتے تھے۔میرے اپنے علم کی رو سے خواہ یہ خلاف شریعت نہ ہو مگر خلاف منشائے شریعت ضرور ہے اور احمدی احباب کو اس قسم کی حرکات سے بچنا چاہئے۔الفضل ۹ ستمبر ۱۹۴۲ء جلد ۳۰ نمبر ۲۰۹ صفحه۱)