فرموداتِ مصلح موعود — Page 223
۲۲۳ نکاح سهرا سہرا کے بارہ میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایہ واللہ تعالیٰ بنصر ودالعزیز سے پو چھا گیا تو آپ نے فرمایا:۔سہرے کا طریق بدعت ہے۔“ الفضل ۴ جنوری ۱۹۴۶ء جلد ۴ ۳ نمبر ۴ صفه ۲ ) سوال :۔شادی کے موقع پر دولہا کو سہرا باندھنا کیسا ہے؟ جواب:۔فرمایا۔لغویت ہے۔انسان کو گھوڑا بنانے والی بات ہے۔دراصل یہ رسم ہندوؤں سے مسلمانوں میں آئی ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔(رسالہ بدرسوم کے خلاف جہاد شائع کردہ اصلاح وارشاد صفحه ۱۴) ( الفضل ۲۰/۴/۱۹۴۶ ) ولیمه ولیمہ اپنی استطاعت کے مطابق کرنا چاہیے۔سویق (ستو) اور ثرید سے بھی ولیمہ ہو گیا ہے۔الفضل مئی ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۳۶) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑے سے بڑا ولیمہ بھی اتنا ہوا ہو گا جتنے ہمارے ہاں چھوٹے ہوتے ہیں۔حالانکہ ولیمہ پر دس پندرہ دوستوں کو بلا لینا کافی ہوتا ہے یا جیسا کہ سنت ہے ایک بکرا ذبح کیا شور با پکایا اور خاندان کے لوگوں میں بانٹ دیا۔خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۳۷ء) ولیمہ کے متعلق بھی میں نے ہدایت دی کہ اس موقعہ پر صرف چند دوستوں کو بلالینا کافی ہوتا ہے۔زیادہ لوگوں کو بلا کر اپنا روپیہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ یہ بھی کافی ہے کہ لوگ اپنا