فرموداتِ مصلح موعود — Page 216
۲۱۶ نکاح کسی کی لڑکی بیاہی ہو اور پھر لڑکی والوں کے ہاں لڑکے والوں کی لڑکی کا رشتہ ہو جائے۔مگر مقرر کر کے رشتہ داری کرنا نا جائز ہے اور اپنے وکالت نامہ کا غلط استعمال ہے اور ابھی تک ہماری جماعت میں سے۔یہ بھی نہیں گیا جب تک لوگ اس فرض کو نہ پہچانیں گے ہم اپنے وکالت نامہ کو خراب نہیں کریں گے۔تب تک یہ رسم نہیں مٹ سکتی۔( خطبات محمود جلد۳، صفحه ۱۴۴) جهیز اور مطالبه جهیز شادی کے موقعہ پر بیوی کے لئے کپڑے وغیرہ دینا سنت ہے لیکن اگر کوئی لڑکی والا یہ شرط کرے کہ اتنے کپڑے دو اور اتنا زیور لاؤ تو یہ بھی ناجائز ہے۔اس کے سوا اگر کوئی بھی شرط کی جائے تو وہ نا جائز ہے اور وہ نکاح نکاح نہیں رہے گا بلکہ حرام ہو جائے گا۔کیونکہ شریعت نے نکاح کے لئے صرف مہر کو ہی ضروری قرار دیا ہے اور جو شخص اس کے علاوہ شرائط پیش کرتا ہے وہ گویائی شریعت بناتا ہے۔الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۰ء جلد ۹ نمبر ۱۳۲ صفحه ۴ ) جس چیز کو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مرد عورت کو کچھ دے۔عورت اپنے ساتھ کچھ لائے یہ ضروری نہیں اور اگر کوئی اس کے لئے مجبور کرتا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ہاں اگر اس کے والدین اپنی خوشی سے کچھ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔الفضل ۱۸ راپریل ۱۹۳۰ء جلد ۱۷ نمبر ۱ ۸ صفحه ۶) جهیز اور زیور کا مطالبہ اوراس کی نمائش نکاح کے لئے کسی روپیہ کی ضرورت نہیں۔مہر عورت کا حق ہے جو مرد کی حیثیت پر ہے۔وہ بہر حال دینا ہے۔باقی جو یہ سوال لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے والوں سے ہوتا ہے کہ کیا زیور کپڑا دو گے۔اور اسی طرح لڑکے والوں کی طرف سے یہ کہ کیا لڑکی کو دو گے بہت تباہی بخش اور ذلیل طریق