فرموداتِ مصلح موعود — Page 206
۲۰۶ نکاح کے لئے بڑا مہر باندھنا شروع کر دیا تھا۔ورنہ خود انہوں نے ام کلثوم بنت حضرت علی کا مہر چالیس ہزار باندھا۔اور وہ پہلے ادا کر دیا تھا۔الفضل ۵ فروری ۱۹۲۴ء- جلد نمبر ۶۱ صفحه ۶) شرعی مهر نکاح ، آرام ، راحت سکینت اور تقویٰ اللہ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے مگر آج کل مسلمانوں نے رسومات اور بدعات سے اسے دکھ کا موجب بنالیا ہے۔بڑے بڑے امراء 32 روپے حق مہر کرتے ہیں اور اس کا نام شرعی مہر رکھتے ہیں۔حالانکہ یہ اُن کے لئے غیر شرعی ہے اور غرباء کئی کئی ہزار مقرر کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لئے گناہ ہے۔الفضل ۱۶ رمئی ۱۹۱۶ء۔بد رسوم کے خلاف جہاد ) مهراپنی حیثیت سے بڑھ کر مقرر نھیں کرنا چاھئے ایک قضاء کی اپیل میں جو بغرض فیصلہ آخر حضرت امیر المومنین خلیفۃالمسیح الثانی کے حضور پیش ہوئی۔ایک عورت کی طرف سے پانچ صد روپیہ مہر کا دعوی تھا اور خاوند کی طرف سے یہ جواب تھا کہ اس قدر رقم مہر اس کی حیثیت سے بہت زیادہ ہے۔اس کو کم کیا جائے اور جو بھی دلایا جائے اس کی ادائیگی باقساط ہو۔حضور نے حسب ذیل فیصلہ فرمایا :۔میری رائے یہی ہے کہ مدعی علیہ کی حیثیت پانچ صد روپیہ یکمشت ادا کرنے کی ہر گز نہیں۔لیکن چونکہ شریعت کے منشاء کے خلاف ہماری جماعت کے بعض افراد بھی بڑے بڑے مہر باندھنے پر اصرار کرتے چلے جاتے ہیں اور جو شریعت کا منشاء ہے کہ مہر یکمشت اور عند الطلب ادا ہونا چاہئے۔اس صورت میں پورا نہیں ہو سکتا۔اس لئے بطور سزا کے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر مدعیہ اپنے خاوند کے گھر میں آجائے تو خاوند ایک ماہ کے اندر قادیان کے دفتر امور عامہ کی