فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 205

۲۰۵ نکاح بعض کہتے ہیں کہ اگر بڑ اولی اجازت نہ دے تو دوسرے ولی کے ذریعے وہ اپنا نکاح کر سکتی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ بلا جائز ولیوں یا سلطان کے نکاح جائز نہیں اور یہی درست ہے۔ہاں اگر ولی کسی صورت میں بھی رضامند نہ ہوں تو وہ حاکم وقت اور قاضی کے ذریعہ کسی دوسری جگہ جہاں وہ اجازت دے نکاح کر اسکتی ہے یا قاضی کی معرفت اولیاء پر دباؤ ڈال سکتی ہے کہ وہ روکیں نہ ڈالیں۔( تفسیر کبیر - جلد دوم، سوره بقر ۵۲۵۰ - زیر آیت فلا تعضلوهن ان ينكحن) مهر مہر ایک معین رقم کا نام ہے جس کا شادی کے وقت مرد کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ادا کرے گا۔اور مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ حتی الوسع مہر مقرر کر کے شادی کیا کریں اور اگر کسی وجہ سے مہر مقرر نہ ہو سکے تو شریعت اسلام کی رو سے جو مہر اس مرد اور عورت کے رشتہ داروں میں رائج ہے اسی کے مطابق مہر عورت کو دلوادیا جائے گا۔الفضل ۲۴ دسمبر ۱۹۱۳ء۔جلدا۔نمبر ۲۸ صفحه۱۱) سوال:۔عورتوں کے مہر مقرر کرنے کی کیا فلاسفی ہے؟ جواب :۔فرمایا۔مہر کی فلاسفی یہ ہے کہ عورت کے لئے جائیداد مقرر ہو جس پر اس کا تصرف ہو۔اس کی کئی ضروریات ہوتی ہیں جن کو مرد غیر ضروری سمجھتے ہیں مگر اس کے نزدیک وہ اہم ہوتی ہیں اور بعض باتیں مرد سے بیان بھی نہیں کر سکتی۔شریعت نے اس کی ضروریات کو تسلیم کیا ہے اور اس کے لئے مستقل جائیداد کا انتظام کیا ہے اور مہر مقرر کر کے عورت کا حق ثابت کر دیا اور اس طرح اسلام نے تمدن کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ولایت میں عورت کی جائیداد نہیں ہوتی مگر جو کچھ وہ قرض کپڑوں وغیرہ کے لئے اُٹھائے وہ مرد کو ادا کرنا پڑتا ہے۔سوال ہوا کہ حضرت عمرؓ نے کیوں زیادہ مہر سے روکا تھا۔فرمایا اس لئے کہ لوگوں نے محض نمود و نمائش