فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 204

۲۰۴ نکاح ولی مرد کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالباً دس گیارہ سال تھی ولی بنایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔شریعت اسلامیہ کا قاعدہ ہے کہ جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو اس کی ولایت حکومت کے ذمہ ہوتی ہے۔حکومت خواہ سیاسی ہو خواہ دینی۔اس کا فرض ہے کہ وہ اس لڑکی کی جس کا کوئی مرد ولی نہیں ، ولی بنے ہاں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔دیگر رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرے مگر آخری فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے اور اس کا حق ہے کہ جہاں اس کی والدہ یا دیگر رشتہ دار پسند کرتے ہیں۔اگر اسے اس میں کوئی غلطی نظر آئے یالڑ کے میں کسی قسم کی عیب دیکھے تو انکار کر دے اور ان کے مشورہ کو رد کر دے۔خطبات محمود جلد ۳، صفحه ۴۷۶،۴۷۵) بغیرولی کی وساطت کے نکاح سوال:۔کیا عورت خود بخود جس سے چاہے بغیر ولی کی وساطت کے اپنا نکاح کرسکتی ہے؟ جواب :۔ولی کا ہونا بہر حال ضروری ہے اور اگر ولی نہ مانیں تو حکومت کی معرفت نکاح کر لے۔اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت کے ولی کسی حد تک عورت کو روک سکتے ہیں۔یا کسی مرحلہ پر بھی انہیں یہ حق حاصل نہیں۔اس کے متعلق امام مالک اور امام شافعی کہتے ہیں کہ ایک دو موقعوں تک تو اولیاء روک ڈال سکتے ہیں لیکن اگر وہ انکار ہی کرتے چلے جائیں اور کسی سے بھی اس کی شادی نہ ہونے دیں تو یہ اُن کے لئے جائز نہیں ہو گا۔گویا ایک دوخواہشمندوں سے روکنا تو احتیاط میں شامل سمجھا جائے گا۔لیکن ان کو اتنا وسیع اختیار نہیں ہوگا کہ جہاں اور جب بھی وہ عورت نکاح کرنا چاہے اُسے روک دیں۔