فرموداتِ مصلح موعود — Page 189
۱۸۹ نکاح مجھے اور تو سب باتوں سے اتفاق ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں لڑکی کو بھی دیکھ لوں۔اس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔لڑکی کے باپ نے کہا میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔وہ نو جوان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تو مجھے سب باتیں پسند ہیں۔میں صرف لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔میں نے لڑکی کے باپ سے اس کا ذکر کیا تھا مگر اس نے لڑکی دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جو کچھ کیا ہے غلط کیا ہے۔شادی کے متعلق اگر سب باتیں طے ہوگئی ہیں تو تم لڑکی کو دیکھ سکتے ہو۔الفضل ۲ / جولائی ۱۹۵۹ء۔نمبر ۱۵۴۔صفه ۳) رضا عورت کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں ہو سکتی۔اسلام سے پہلے یہ رواج تھا کہ والدین جہاں چاہتے عورت کی شادی کر دیتے۔اس کی مرضی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا تھا اور عورت کو ان کی بات مانی پڑتی تھی۔مسلمانوں نے بھی اس زمانہ میں اگر چہ یہ حق تلف کر دیا ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اسلامی تعلیم ناقص ہے۔اسلام نے یہاں تک کہا ہے کہ عورت کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شادی ہو تو وہ باطل ہے۔(تفسیر کبیر جلد دہم۔سورۃ الکوثر - صفحہ ۳۰۲) لڑکی کی اجازت کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہو سکتا۔اگر لڑ کی انکار کر دے تو کوئی نکاح نہیں۔مرداگر ولیمہ کی دعوت کرے تو کھانی جائز ہے اور اگر لڑ کی کی طرف سے ہو تو جائز نہیں۔الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۱۱۳) لڑکی کے معاملہ میں شریعت نے والدین کو ویٹو کا حق دیا ہے یعنی لڑکی اگر کہے کہ فلاں جگہ شادی کرنا چاہتی ہوں۔والدین مناسب نہ سمجھیں تو وہ انکار کر سکتے ہیں۔لیکن یہ محدود حق ہے یعنی دو دفعہ کے لئے حق ہے اگر تیسری جگہ بھی انکار کریں تو لڑکی کا حق ہے کہ قضاء میں درخواست کرے کہ والدین