فرموداتِ مصلح موعود — Page 176
K24 تناول نہ فرماتے تھے۔بعد میں جا کر قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے۔اس لئے یہ عید اپنے اندر دو نمونے رکھتی ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ روزے کا اور دوسرا حصہ کھانے کا ہے مگر پہلی عید ایک ہی رنگ رکھتی ہے کہ مہینہ بھر روزے رکھے جاتے ہیں اور اس دن کھایا پیا جاتا ہے۔الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۱۹ء۔خطبات عیدین صفحه ۱۴۸) عید الاضحی کے دن نفلی روزہ رکھنا اسی طرح مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھے لکھا ہے کہ جو روزہ اس عید کے موقع پر رکھا جاتا ہے وہ سنت نہیں ، اس کا اعلان کر دیا جائے۔مگر رسول اللہ ﷺ کا یہ طریق ثابت ہے کہ آپ صحت کی حالت میں قربانی کر کے کھاتے تھے۔تاہم یہ کوئی ایسا روزہ نہیں کہ کوئی نہ رکھے تو گنہگار ہو جائے۔یہ کوئی فرض نہیں بلکہ نفلی روزہ ہے اور مستحب ہے۔جو رکھ سکتا ہور کھے مگر جو بیمار ، بوڑھایا دوسرا بھی نہ رکھ سکے وہ مکلف نہیں اور نہ رکھنے سے گنہ گار نہیں ہوگا۔مگر یہ بالکل بے حقیقت بھی نہیں جیسا کہ مولوی بقا پوری صاحب نے لکھا ہے۔میں نے صحت کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔پھر مسلمانوں میں یہ کثرت سے رائج ہے اور یہ یونہی نہیں بنالیا گیا بلکہ مستحب نفل ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعامل رہا اور جس پر عمل کرنے والا ثواب پاتا ہے مگر جو نہ کر سکے اسے گناہ نہیں۔(خطبات محمود جلد ۲ صفحه ۲۶۳) ☆☆☆