فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 175

نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔۱۷۵ روزه شوال میں چھ روزے (الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۱۷ء۔نمبر۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ شوال کے مہینے میں عید کا دن گزرنے کے بعد چھ روزے رکھتے تھے۔اس طریق کا احیاء ہماری جماعت کا فرض ہے۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ تمام قادیان میں عید کے بعد چھ دن تک رمضان ہی کی طرح اہتمام تھا۔آخر میں چونکہ حضرت صاحب کی عمر زیادہ ہوگئی تھی اور بیمار بھی رہتے تھے اس لئے دو تین سال بعد آپ نے روزے نہیں رکھے۔جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جو غفلت میں ہوں ہوشیار ہو جائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اور کمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں۔اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کر بھی رکھ سکتے ہیں۔(الفضل ۸/ جون ۱۹۲۲ء) ( خطبات عید بین صفحه (۲۱۶) ( خطبات محمود جلد اول صفحہ اے۔ایڈیشن اول) عیدالاضحی اور عیدالفطر میں فرق اس عید میں اور اس سے پہلی عید میں جو عید الفطر کہلاتی ہے یہ فرق ہے کہ عید الفطر میں بوجہ اس کے کہ رمضان کا تمام مہینہ طاقت رکھنے والے مسلمان روزے رکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عید کے دن یہ سنت تھی کہ آپ صبح ناشتہ کر کے عید پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔مگر آج کی عید کے دن پہلا حصہ نیم روزہ اور پچھلا حصہ قربانی کا ہوتا تھا۔اور آپ کی سنت تھی کہ عید پڑھنے سے پہلے کچ