فرموداتِ مصلح موعود — Page 173
۱۷۳ روزه جواب:۔دینا چاہئے۔ہاں اگر جمع کرنے اور تقسیم کرنے کا کوئی انتظام ہوتو اس میں شامل ہونا چاہئے۔صدقة (الفضل ۱۹ ر ا گست ۱۹۱۶ء) ـة الفطر غیروں کودے سکتے ہیں، سیدوں کونهیں جہاں تک ہو سکے رمضان سے عملی سبق لینا چاہئے۔یہاں کے لوگ یہاں صدقہ کر سکتے ہیں اور باہر کے باہر۔یہ شرط نہیں ہے کہ اپنے ہی ہاں دیا جائے۔غیروں کو بھی دینا چاہئے۔غیروں کو بلکہ ضرور ہی دینا چاہئے تا خدا کی مخلوق سے ہمدردی عام ہو۔میرے نزدیک کتے بلیاں اور چوہے بھی مستحق ہیں کہ ان کو بھی کھلانا پلانا چاہئے۔یہ تو صدقہ کے متعلق تھا مگر ایک بات اور بھی یادرکھو ایک جماعت ہے جو صدقہ نہیں کھا سکتی وہ محتاج ہے،غریب ہے، نادار ہے۔اس کی بھی مدد کی صورت نکالنی چاہئے۔کیونکہ وہ سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ سیدوں کی جماعت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسل کو صدقہ سے منع فرمایا ہے۔بعض نے کہا ہے اب سیدوں کے لئے صدقہ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ نادار ہیں مگر میرے نزدیک درست نہیں۔جس بات سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس کو جائز کیا جائے۔صدقہ کے علاوہ اور بھی طریق ہو سکتے ہیں جن سے ان کی مدد ہو سکتی ہے اور اس طرح محبت بھی بڑھ سکتی ہے وہ ھدایا کا طریق ہے۔پس سیدوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق نسبتی ہے اس لئے جہاں میں آپ لوگوں کو صدقات کی طرف متوجہ کرتا ہوں وہاں یہ بھی بتا تا ہوں کہ میں نہیں چاہتا کہ صدقہ کسی فتوی سے سیدوں کے لئے جائز کر دیا جائے۔(الفضل ۲۴ /۲۱ جولائی ۱۹۱۷ء۔نمبر ۵،۶)