فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 156

۱۵۶ روزه جواب :۔جہاں چاند نکلتا ہے وہاں یہ حساب ہوگا کہ چاند دیکھنے پر روزہ اور عید ہوا گر ۲۹ دن کے بعد چاند نکلتا ہے اور اگر ۳۰ دن ہو جائیں تو پھر بغیر دیکھے حساب پر روزہ رکھنا یا عید کرنا اسلامی تعلیم کے مطابق ہیں۔جہاں چاند نہیں نکلتا وہاں روز ہ ۱۲ گھنٹہ کا دن فرض کر کے ہوگا۔چونکہ بیرونجات سے یہ خبریں پہنچتی ہیں کہ پہلا روزہ ہفتہ کا ہے بلکہ ایک دوست جوالہ آباد کے علاقہ سے آئے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ وہاں میں نے خود چاند دیکھا ہے اور لوگوں نے دیکھ کر ہفتہ کا روزہ رکھا۔اس لئے حضور نے پسند فرمایا کہ جمعرات کے دن بیسویں تاریخ قرار دے کر اسی روز اعتکاف بیٹھ جاویں۔علاقہ نظام (حیدرآباد دکن ) میں تو جمعہ کے روز پہلا روزہ ہوا۔الفضل ۱۶ را گست ۱۹۱۴ء۔نمبر ۲۶) ماہ رمضان کی فضیلت۔مسافر کون؟ یہ زمانہ روحانی ترقیات کا ہے اور روحانی ترقیات میں روزے ضروری ہیں اس لئے ان کومت چھوڑو۔دعاؤں کے ذریعہ قرب تلاش کرو۔ہاں جو بیمار ہیں جن کو عرف میں بیمار کہتے ہیں اور جوسفر میں ہوں ان کے لئے بھی روزے معاف نہیں۔وہ دوسرے ایام میں رکھیں۔اگر تندرست سے تندرست شخص بھی طبیب کے پاس جائے تو وہ کوئی نہ کوئی مرض تلاش کر کے بتائے گا۔ایسا مرض نہیں بلکہ عرف میں جس کو مرض کہتے ہیں وہ مرض ہوتا ہے اور اسی طرح سفر بھی وہ جو اتفاقی طور پر پیش آئے۔لیکن جو شخص تاجر ہے یا جو غلام ہے اور اس کا کام ہے کہ وہ دورہ کرے یہ سفر نہیں۔سفر اتفاقی سفر کو کہتے ہیں جس کو مستقل سفر پیش رہے وہ مسافر نہیں جیسے پھیری والا۔زمیندار کہتے ہیں کہ ہمیں کام سخت کرنا پڑتا ہے ہم نہیں روزہ رکھ سکتے سو ان کو معلوم ہو کہ ان کا جو کام ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے لئے جسمانی تکلیف کم ہو گئی ہے۔اس سخت کام کے باعث ان کے پٹھوں کی حس کم ہو گئی ہے۔تم نے دیکھا ہوگا کہ ایک دماغی کام کرنے والا اگر آپریشن کرائے تو اس کے لئے کلورا فارم کی