فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 142

۱۴۲ زكوة دیکھو! ان لوگوں نے ایک حکم کی خلاف ورزی کی اور سب کام مسلمانوں جیسے کیا کرتے تھے پھر بھی ان کے ساتھ کا فروں کا سا سلوک ہوا۔جس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کیسی ضروری بات ہے۔ہاں جو زیور پہنا جاوے اس پر ز کو نہیں۔الفضل ۶ / مارچ ۱۹۲۲ء۔الازھار لذوات الخمار صفحه ۵۶) زکوة کب واجب ھوتی ھے نماز کے بعد دوسرا حکم زکوۃ کا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جس مال پر ایک سال گزر جائے اس غریبوں اور مسکینوں کی امداد کے لیے چالیسواں حصہ نکالا جائے اگر اسلامی حکومت ہو تو اس کو وہ حصہ دے دیا جائے۔اگر نہ ہو تو جو انتظام ہو اس کو دیا جائے۔زیوروں کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر پہنے جاتے ہوں تو ان کی زکوۃ نہ دی جائے اور اگر ان کی بھی دی جائے تو اچھی بات ہے۔ہاں اگر ایسے زیور ہوں جو عام طور پر نہ پہنے جاتے ہوں کبھی بیاہ شادی کے موقعہ پر پہن لیے جاتے ہوں ان کی زکوۃ دینا ضروری ہے اور جو عام طور پر پہنے جاتے ہوں ان کی زکوۃ دی جائے تو جائز ہے اور نہ دی جائے تو گناہ نہیں۔ان کا گھسناہی زکوۃ ہے۔ہمارے ملک میں عورتوں کو زیور بنوانے کی عادت ہے اس لیے قریباً سب عورتوں پر زکوۃ فرض ہوتی ہے وہ اس کا خیال نہیں رکھتیں حالانکہ یہ اتنا ضروری حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک زکوۃ کی اونٹ باندھنے کی رسی تک نہ دیں گے میں ان سے جنگ کروں گا۔اور یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو ز کوۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں۔تم اپنی حالت پر غور کرو کہ تم میں سے بہت سی نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہتیں اور جو اس سے بچ جاتی ہیں ان میں سے اکثر ز کوۃ نہ دینے کی وجہ سے مسلمان نہیں کہلا سکتیں۔الازھار لذوات الخمار - صفحہ ۴۲ ۴۳۔ایڈیشن دوم )