فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 130

نماز جنازه میں سے کوئی بالغ ہو کر باپ کے مذہب کی مخالفت کا اعلان نہ کرے باپ کے مذہب پر ہی شمار ہوگی۔بلکہ احمدی ماں کے بچے بھی احمدی ہی سمجھے جائیں گے خواہ باپ غیر احمدی ہی کیوں نہ ہو۔پس ایسے تمام لڑکے، لڑکیوں کا جنازہ جائز ہے۔خاکسار مرز امحمود احمد الفضل ۱۵ / اکتوبر ۱۹۱۸ء۔جلد نمبر ۶ نمبر ۲۸) ایک دوست نے لکھا۔متوفی بچے کے لئے دعا کرنے کو از حد دل چاہتا ہے۔دعا کس طرح کی جاوے؟ فرمایا۔بچے کے لئے کیا دعا کرنی ہے۔اس کے لئے تو یہی دعا ہو سکتی ہے کہ اس کو ہماری ترقیات اور ثواب کا موجب کرے۔الفضل ۷ دسمبر ۱۹۲۲ء۔جلد نمبر ۱۰ نمبر ۴۵) خودکشی خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ایسی حرام کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو خودکشی کرتا ہے وہ جہنمی ہے اور جس کا انجام کسی جہنمی فعل پر ہو اس کے انجام کی نسبت شک نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس کا جنازہ جو دعائے بخشش ہے پڑھنا جائز نہیں اور نہ میں میری جماعت کے لوگ اس کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں۔مقبرہ بہشتی میں ایسا شخص کسی صورت میں دفن نہیں ہو سکتا۔خود کشی بہادری نہیں بلکہ جنون کا ایک شعبہ ہے سوائے عارضی جنون کے خود کشی کا فعل مکمل نہیں ہوسکتا۔جو عارضہ جنون میں مبتلا نہیں ہوتے عین وقت پر خود کشی سے باز آجاتے ہیں۔ڈاکٹروں نے ہزاروں تجارب کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچادی ہے۔اگر جنون ہے تو سزا کیسی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فعل خود کشی باعانت جنون ہوتا ہے۔لیکن ارادہ کے لئے جنون کی شرط نہیں وہ مایوسی سے پیدا ہوتا ہے اس لئے سزا ارادہ ناجائز کی ملتی ہے اور اگر خود کشی