فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 129

۱۲۹ نماز جنازه ہے جواب آنے سے قبل فوت ہو جاتا ہے۔کیا اس کا جنازہ پڑھ سکتے ہیں؟ جواب :۔جب کوئی بیعت کا اظہار کرے اگر وہ جماعت سے نکالا ہوا نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہئے۔خواہ جواب آئے یا نہ آئے۔( الفضل یکم جنوری ۱۹۴۷ء۔جلد نمبر ۳۵۔نمبر۱) جو شخص اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور ایسے کام جن کی وجہ سے انسان احمدیت سے خارج ہو جا تا ہے وہ نہیں کرتا تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں ہے۔خارج از احمدیت ہونے سے میری مراد ایسے امور ہیں کہ جن کی وجہ سے کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے۔چنانچہ غیر احمدی کو لڑکی کا رشتہ دینا بھی اسی قسم میں سے ہے۔الفضل ۴ رمئی ۱۹۲۲ء۔جلد نمبر ۹ نمبر ۸۶) سوال پیش ہوا کہ غیر احمدی کو لڑکی دینے والے آدمی کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ جواب : فرمایا۔اس کی شادی میں کم از کم شامل نہ ہونا چاہئے اگر وہ تو بہ نہ کرے تو اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے۔بلکہ اس کا چندہ بھی نہیں لینا چاہئے۔(الفضل ۱۵ مئی ۱۹۲۲ء۔جلد نمبر ۹) جن کا مقاطعہ ہوا گر وہ فوت ہو جائیں تو کیا ان کا جنازہ پڑھا جائے یا نہ؟ جواب :۔حضور نے فرمایا۔ایسے لوگوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔بعض صورتوں میں ان کا جنازہ نہیں پڑھا جائے گا اور بعض میں پڑھا جائے گا۔الفضل ۱۹ را پریل ۱۹۴۶ء۔جلد نمبر ۳۴ نمبر ۹۳) احمدیوں کے بچوں کاجنازہ احمدیوں کے بچے احمدی ہیں اور جب تک کسی احمدی کا لڑکا یا لڑکی بلوغت کو پہنچ کر احمد بیت کا انکار نہ کرے وہ احمدی ہی سمجھا جائے گا۔اور اس سے احمدیوں کا سا ہی معاملہ ہوگا۔کیونکہ اولا د جب تک ان